لاہور: پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی آمد کے موقع پر پیش آنے والی ہنگامہ آرائی سے متعلق اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں واقعے کی تفصیلات، ذمہ داران کی نشاندہی اور آئندہ کے لیے اہم سفارشات پیش کی گئی ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اسمبلی کے تقدس اور سکیورٹی نظام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد حاصل کی جائے تاکہ حقائق کی مکمل جانچ ممکن بنائی جا سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ہمراہ آنے والے افراد کے صرف ناموں کی ایک فہرست فراہم کی گئی، جو انتہائی ناکافی تھی۔ اس فہرست میں نہ تو شناختی کارڈ نمبرز شامل تھے، نہ تصاویر اور نہ ہی گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبرز فراہم کیے گئے، جس کے باعث اسمبلی میں داخل ہونے والے افراد کی درست شناخت میں شدید مشکلات پیش آئیں۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایک شخص مطیع اللّٰہ برقی نے جھوٹ بول کر اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ بعد ازاں صوبائی وزیر خیبر پختونخوا مینا خان نے تصدیق کی کہ مطیع اللّٰہ برقی، رکن اسمبلی اشفاق نہیں ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جب مطیع اللّٰہ برقی کو اسمبلی سے باہر جانے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی، گالم گلوچ کی اور صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ شناخت کے عمل میں مدد کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے دو ارکان اسمبلی مین گیٹ پر موجود ہوں گے، تاہم یہ انتظام عملی طور پر پورا نہ ہو سکا، جس سے سکیورٹی اہلکاروں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق اسمبلی سکیورٹی نے تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف شناخت مکمل کرنے کی درخواست کی، مگر اس کے جواب میں گالم گلوچ، دھکم پیل اور بدنظمی کی گئی۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اپوزیشن کی فراہم کردہ فہرست میں سزا یافتہ شخص حیدر مجید کا نام بھی شامل تھا، جو سکیورٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کی تحقیقاتی کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اسمبلی جیسے حساس اور آئینی ادارے میں داخلے کے لیے مکمل اور تصدیق شدہ ڈیٹا فراہم کرنا ناگزیر ہے، اور مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے سکیورٹی پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے۔
