Baaghi TV

‎پنجاب میں 2,115 مستقل ڈاکٹروں کے عہدے ختم، لوکم پوسٹس متعارف

‎پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں پرائمری اور سیکنڈری صحت کے شعبے کے 2,115 جنرل کیڈر ڈاکٹروں کے مستقل عہدے ختم کرکے انہیں عارضی عہدوں میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے بعد طبی برادری میں شدید ردعمل پیدا ہوا اور اسے صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
‎یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کے 15 دسمبر کے اجلاس میں منظور کیے گئے قواعد کے تحت کیا گیا، جس کے مطابق سیکنڈری سطح کے عملے کو خصوصی مراعات کے ساتھ بھرتی کیا جائے گا۔ محکمہ مالیات نے بھی اس کی منظوری دی اور اتنے ہی نئے عارضی عہدے تخلیق کیے۔
‎ان مختلف زمروں کے جنرل کیڈر اور کنسلٹنٹ ڈاکٹروں کے عہدے ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتالوں سے منسلک تھے، جو پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی کنٹرول میں تھے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے صحت کا نظام شدید متاثر ہوگا، کیونکہ روزانہ ڈاکٹروں کی تبدیلی سے مریضوں کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ پہلی ملاقات میں کس ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی اور دوسری ملاقات میں کس سے ہوگی۔
ایک سرکاری اہلکار کے مطابق ختم کیے گئے عہدے گزشتہ ایک سال سے خالی تھے اور انہیں "عارضی عہدے ” قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کی وسیع اصلاحاتی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ انتظامی اخراجات کم کیے جائیں اور مالی استحکام بہتر بنایا جا سکے۔ اس کا تعلق بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے بھی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے پنجاب حکومت کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک نے کہا کہ گریڈ 18، 19 اور 20 کے مستقل عہدے ختم کرکے انہیں عارضی عہدوں میں تبدیل کرنا ڈاکٹروں کے ساتھ ناانصافی ہے جو پہلے سے مستقل بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
‎انہوں نے کہا کہ محکمہ مالیات کی موجودہ بیوروکریسی حکومت کو گمراہ کر رہی ہے اور مختص فنڈز کو دیگر بجٹ خانوں میں منتقل کر رہی ہے، جو نہایت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
‎پروفیسر شاہد ملک نے خبردار کیا کہ عارضی یا یومیہ اجرت پر ڈاکٹروں کی تقرری سے پورا صحت کا نظام متاثر ہوگا اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کے کیریئر اور ترقی کے مواقع محدود ہو جائیں گے، جس کا براہِ راست اثر مریضوں پر پڑے گا۔ انہوں نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ فوری نوٹس لے کر محکمہ مالیات کا جاری کردہ نوٹیفکیشن معطل کیا جائے تاکہ بیوروکریسی کو ایسے اقدامات کرنے سے روکا جا سکے اور مستقبل میں دوبارہ ایسے اقدامات نہ کیے جائیں۔
‎مزید برآں، اس اقدام کے طبی نظام پر منفی اثرات واضح ہیں۔ مستقل ڈاکٹروں کے عہدوں کو عارضی پوسٹس میں بدلنے سے اسپتالوں میں مریضوں کے لیے علاج کا تسلسل متاثر ہوگا۔ روزانہ ڈاکٹروں کی تبدیلی سے مریض نہیں جان پائیں گے کہ ان کی پہلی ملاقات کے ڈاکٹر سے دوسری ملاقات میں کس ڈاکٹر سے ہو رہی ہے۔
‎یہ فیصلہ ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ ترقی اور ترقیاں بھی متاثر کرے گا، کیونکہ گریڈ 18، 19 اور 20 میں ترقی کے لیے مستند عہدوں کی دستیابی ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف کیریئر کے مواقع محدود ہوں گے بلکہ صحت کے نظام کی مجموعی کارکردگی بھی متاثر ہوگی۔

More posts