Baaghi TV

گوجرخان،قصاب مافیا کی دھونس ،سرکاری نرخنامہ مندر کا گھنٹہ بن گیا

قصابوں نے ہڑتال کے بعد من مانے نرخ نافذ کر دیے ریٹ لسٹ کو کھلے عام جوتے کی نوک پر رکھ کر پنجاب حکومت قانون کی رٹ کو کھلا چیلنج کر دیا
شہریوں کے شدید تحفظات کا اظہار کیا بااثر قصابوں اور مقامی سیاسی شخصیات کا گٹھ جوڑ انتظامیہ کو خاموش رکھے ہوئے ہے؟
گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں گوشت فروشوں نے انتظامیہ کی رٹ کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے سرکاری نرخنامے کو عملاً ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ شہر بھر میں قصاب من مانے نرخوں پر گوشت فروخت کر رہے ہیں جبکہ انتظامیہ مکمل طور پر بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ شہریوں کے مطابق گوجرخان میں تیار کیا جانے والا سرکاری نرخنامہ اب محض ایک رسمی کاغذ بن کر رہ گیا ہے جو بازاروں میں ایسے لٹکا ہوا ہے جیسے کسی مندر کا گھنٹہ، جس کا دل چاہے بجا دے۔ چند روز قبل گوشت کی قیمتوں کے معاملے پر قصابوں نے ہڑتال کر دی تھی جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ گوشت صرف سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق فروخت کیا جائے گا۔

تاہم چند دن دکانیں بند رکھنے کے بعد جب قصابوں نے کاروبار دوبارہ شروع کیا تو صورتحال مزید خراب ہو گئی اور قیمتیں پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دی گئیں۔ اس وقت گوجرخان میں گائے اور بچھڑے کا گوشت تقریباً 1300 سے 1400 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل یہ 1200 روپے میں دستیاب تھا، حالانکہ سرکاری نرخنامے میں اس کی قیمت 900 روپے فی کلو مقرر ہے۔ اسی طرح بکرے کا گوشت 2400 سے 2500 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ سرکاری ریٹ لسٹ میں اس کی قیمت 1800 روپے فی کلو درج ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے بعد قصاب طبقہ مزید منہ زور ہو گیا ہے اور اب کھلے عام سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہنگے داموں گوشت فروخت کر رہا ہے۔ بازاروں میں سرکاری ریٹ لسٹ تو آویزاں ہے مگر اس پر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آ رہا۔ شہر کے رہائشیوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی پہلے ہی عام آدمی کی کمر توڑ چکی ہے اور اب گوشت بھی متوسط اور دیہاڑی دار طبقے کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ کچھ شہریوں کا دعویٰ ہے کہ شہر کے قصاب بااثر ہیں اور ان کا مضبوط ووٹ بینک ہے جبکہ مقامی سیاسی شخصیات کے ساتھ مبینہ روابط کے باعث انتظامیہ ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے گریزاں ہے، جس کے نتیجے میں قصاب طبقہ مزید دلیر ہو کر قانون کو چیلنج کر رہا ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر وہ کون سی پوشیدہ قوتیں ہیں جن کے سامنے گوجرخان انتظامیہ بھی بے بس دکھائی دیتی ہے اور سرکاری نرخنامہ محض نمائشی کاغذ بن کر رہ گیا ہے۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب اور راولپنڈی ڈویژن کی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناجائز منافع خوری اور مہنگائی کے خلاف جاری حکومتی مہم کا عملی نفاذ یقینی بنایا جائے اور گوجرخان میں سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کرایا جائے تاکہ عام شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

More posts