مٹن 2500 اور بیف کی 1400 تک دھڑلے سے فروخت جبکہ سرکاری نرخ 1800 اور 900 ہوا میں تحلیل جرمانوں کی دھمکی پر دکانیں بند
بلیک میلنگ یا کاروباری مجبوری؟ کیا اس بار بھی طاقتور حلقے بازی لے جائیں گے؟ یا انتظامیہ واقعی سرکاری نرخ نافذ کر کے دکھائے گی؟
گوجرخان(قمرشہزاد) گوجرخان ایک بار پھر گوشت بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں سرکاری ریٹ لسٹ کاغذوں تک محدود اور بازار عملاً بے لگام دکھائی دے رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے حکومتی احکامات کے تحت مٹن کی 1800 اور بیف 900 روپے فی کلو فروخت یقینی بنانے کے لیے بھاری جرمانوں، دکانوں کی سیلنگ اور مقدمات کے اندراج کی گونج ابھی سنائی ہی دے رہی تھی کہ قصاب برادری نے دکانوں کے شٹر گرا کر شہر کو عملاً یرغمال بنا لیا۔یہ محض نرخوں کا جھگڑا نہیں، ریاستی رٹ اور بازار کی من مانی کے درمیان کھلی جنگ بن چکا ہے۔ ایک طرف انتظامیہ جرمانوں اور مقدمات کی دھمکیاں دے رہی ہے، تو دوسری طرف قصاب جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، چارہ، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، ایسے میں سرکاری نرخ زمینی حقائق سے متصادم ہیں کا جواز پیش کر کے اجتماعی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ عام شہری مہنگائی، قلت اور غیر یقینی صورتحال کے شکنجے میں جکڑا کھڑا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر نرخ ناقابلِ عمل ہیں تو پھر کھلے عام 2500 روپے فی کلو مٹن اور 1400 روپے کلو بیف دھڑلے سے فروخت کرنے کا اختیار کس نے دیا؟ شہری اس کشمکش کو محض انتظامیہ اور قصابوں کی چپقلش نہیں بلکہ ایک منظم دباؤ کی سیاست قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال یہی اسکرپٹ دہرایا جاتا ہے پہلے چھاپے، پھر جرمانے، اس کے بعد ہڑتال، اور آخرکار سیاسی پنڈتوں کی مداخلت کے ذریعے خاموش سمجھوتہ نتیجہ؟ عوام کی جیب پر ڈاکہ، شہریوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ اگر حکومت اور مقامی انتظامیہ کو آخرکار گھٹنے ہی ٹیکنے ہیں تو نرخناموں کا نمائشی ڈھول بجانا بند کیا جائے۔ بصورتِ دیگر ریاست اپنی رٹ قائم کرے اور سرکاری ریٹ لسٹ پر بلاامتیاز گوشت کی دستیابی یقینی بنائے۔ گوجرخان کے بازار اس وقت سنسان ہیں مگر سوال گونج رہا ہے کیا اس بار بھی طاقتور حلقے بازی لے جائیں گے؟ یا انتظامیہ واقعی سرکاری نرخ نافذ کر کے دکھائے گی؟ فیصلہ جو بھی ہو، اس رسہ کشی کا سب سے بڑا خمیازہ عام شہری ہی بھگت رہا ہے۔
نرخنامہ ردی کی ٹوکری میں قصابوں کی ہڑتال سے شہر یرغمال
