Baaghi TV

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے ۔سبیل اکرام

subiyal

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ظالمانہ اضافہ عوام پر کھلا خودکش حملہ ہے۔ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام پر ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے ۔ ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 211 روپے صرف ٹیکس، لیوی اور مختلف چارجز کے نام پر وصول کرنا کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ تصور ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے اپنے ایک بیان میں کیا ۔ انھوں نے کہا وہ ممالک جو جنگ سے براہ راست متاثر ہیں ان میں پٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھی ہیں جبکہ ہمارے ہاں ایک طرف عوام کو یہ خوشخبری سنائی گئی کہ پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے باآسانی گزررہے ہیں اور دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کردیا گیا ہے کہ جو لوگوں کو کچل دے گا اور معیشت کو تباہ کردے گا ۔فی لیٹر پٹرول پر عائد لیوی اور مختلف ٹیکسز یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ عوام کی خالی ہوتی جیب، مزدور کے بجھتے چولہے اور سفید پوش طبقے کی ٹوٹتی امیدوں کی کہانی ہے جس نے ہر فرد کی مشکلات کو ناقابلِ برداشت حد تک پہنچا دیا ہے۔اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ درحقیقت مہنگائی کے ایک نہ ختم ہونے والے طوفان کو جنم دے گا ۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، بجلی اور گیس کے بل عوام کے لیے ڈراؤنا خواب بن جاتے ہیں۔ ایک عام آدمی جو پہلے ہی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، اب مکمل بے بسی کی تصویر بن چکا ہے۔ انھوں نے کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بجائے حکمران اپنے شاہانہ اخراجات کم کریں ۔ وزراء اور سرکاری افسران کو ملنے والی مفت پٹرول کی سہولت فوری طور پر ختم کی جائے، کیونکہ اب عوام کیلئے یہ شاہ خرچیاں برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔ عوام کیلئے مہنگا پٹرول وزراء اور حکمرانوں کیلئے شاہانہ مراعات یہ حکمرانوں کا کھلا تضاد بھی ہے اور عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف بھی ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ عوام دشمن رویہ ترک کیا جائے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے ۔

More posts