Baaghi TV

رات بھر نیند کے باوجود صبح تھکاوٹ،ہو سکتی ہے کون سی بیماری

اگر آپ روزانہ 8 سے 9 گھنٹے کی مکمل نیند لینے کے باوجود بھی صبح اٹھتے ہی تھکاوٹ، سستی اور کمزوری محسوس کرتے ہیں تو یہ محض نیند کی کمی نہیں بلکہ کسی سنگین طبی مسئلے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل تھکاوٹ کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

سر گنگا رام اسپتال کی ماہر ڈاکٹر سونیا راوت کے مطابق بعض اوقات بظاہر مکمل نیند لینے کے باوجود اس کا معیار خراب ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جسم کو مکمل آرام نہیں ملتا اور انسان خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق صبح کی مستقل تھکاوٹ درج ذیل 5 بیماریوں یا مسائل کی نشاندہی کر سکتی ہے، نیند کی خرابی،یہ ایک عام مگر خطرناک مسئلہ ہے جس میں نیند کے دوران سانس بار بار رکتی ہے۔ اس سے نیند کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اور جسم کو مناسب آکسیجن نہیں مل پاتی، جس کے باعث دن بھر تھکاوٹ رہتی ہے۔ خون کی کمی ،آئرن، وٹامن بی 12 یا فولک ایسڈ کی کمی خون کی کمی کا سبب بنتی ہے، جس سے جسم میں آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور مسلسل کمزوری محسوس ہوتی ہے۔

تھائرائیڈ کا مسئلہ ،تھائرائیڈ ہارمون کی کمی میٹابولزم کو سست کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں سستی، وزن میں اضافہ اور تھکاوٹ جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن،مسلسل ذہنی تناؤ، بے چینی اور ڈپریشن نہ صرف نیند کے معیار کو متاثر کرتے ہیں بلکہ صبح اٹھنے پر بھی تھکن اور بوجھل پن کا احساس برقرار رکھتے ہیں۔وٹامن ڈی کی کمی بھی توانائی کی سطح کو کم کر دیتی ہے، جس سے پٹھوں میں درد، کمزوری اور تھکاوٹ عام ہو جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص طرزِ زندگی بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتا ہے۔ دیر سے سونا، کیفین کا زیادہ استعمال، ورزش کی کمی اور اسکرین کا زیادہ استعمال جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق اگر آپ کو مسلسل تھکاوٹ کا سامنا ہے تو متوازن غذا کا استعمال کریں،روزانہ ورزش کو معمول بنائیں،سونے کا وقت مقرر کریں،کیفین اور موبائل کے استعمال کو کم کریں،اگر اس کے باوجود مسئلہ برقرار رہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ یہ کسی بڑی بیماری کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ اپنی صحت کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ بروقت تشخیص ہی بہتر علاج کی ضمانت ہے۔

More posts