غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ جزوی طور پر کھلنے کے بعد فلسطینیوں کی غزہ واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ شب مزید 25 فلسطینی غزہ واپس پہنچے، جو اس کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے بعد داخل ہونے والے تیسرے گروپ میں شامل ہیں۔ یہ افراد مقامی وقت کے مطابق رات تین بجے غزہ پہنچے۔
عرب میڈیا کے مطابق، کچھ ہی گھنٹوں بعد 13 فلسطینی مریضوں کو ان کے اہل خانہ اور عالمی ادارہ صحت کے اہلکاروں کے ہمراہ بیرونِ ملک علاج کے لیے رفح کراسنگ کی جانب منتقل کیا گیا۔
غزہ واپس آنے والے کئی افراد نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں اسرائیلی سکیورٹی چیک پوائنٹس پر تفتیش اور توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ واپسی کے دوران اہل خانہ سے ملاقات کے جذباتی مناظر دیکھے گئے۔ ایک خاتون عائشہ بلاوی نے کہا، "یہ خوشی اور غم کے درمیان معلق ہونے جیسا احساس ہے۔ اپنے خاندان سے مل کر خوش ہوں، لیکن اپنے وطن کی تباہی دیکھ کر دل افسردہ ہے۔”
فلسطینیوں کی واپسی اور مریضوں کی علاج کے لیے رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنا امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی شرائط میں شامل تھا۔ فی الحال صرف وہی فلسطینی واپس آ سکتے ہیں جو جنگ کے دوران غزہ سے باہر گئے تھے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے مئی 2024 میں رفح کراسنگ پر قبضہ کر کے اسے آمدورفت کے لیے بند کر دیا تھا۔
دو سال بعد رفح کراسنگ کھلنے کے بعد فلسطینیوں کا غزہ واپسی کا سلسلہ جاری
