بھارت میں کانگریس پارٹی کے رہنماء اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ حکومت نے بھارت کو بیچ دیا ہے۔
راہل گاندھی نے لوک سبھا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کیلئے ملکی مفادات پر سمجھوتہ کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ”دراصل مودی حکومت نے بھارت ماتا کو بیچ دیا ہے”۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس سچائی کو تسلیم کرنے کے باوجود حکومت نے امریکہ کو توانائی اور مالیاتی نظام کو اس طرح ہتھیار بنانے کی اجازت دی ہے جس کا اثر بھارت پر پڑ رہا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ جب امریکہ کہتا ہے کہ ہندوستان کسی خاص ملک (روس) سے تیل نہیں خرید سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری توانائی کی حفاظت کا فیصلہ باہر سے کیا جا رہا ہے، کہ توانائی کو ہی ہمارے خلاف ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔مودی حکومت پر طنز کرتے ہوئے راہل گاندھی نے سوال کیا کہ کیا حکومت کو امریکہ کے ساتھ اس توہین آمیز معاہدے پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے؟ کانگریس لیڈر نے کہا کہ پی ایم مودی پر بیرونی دباؤ ڈالا جا رہا ہے، ان آنکھوں میں خوف صاف ظاہر ہے۔امریکی ٹیرف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اوسط ٹیرف تقریباً تین فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہو گیا ہے، جو چھ گنا زائد ہے۔
اُنہوں نے مزید دعوی کیا کہ ہندوستان میں امریکی درآمدات 46 بلین ڈالر سے بڑھ کر 146 بلین ڈالر تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے اس صورتحال کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت بھارت کوئی پختہ یقین دہانی حاصل کئے بغیر امریکہ سے ہر سال درآمدات میں تقریباً 100 بلین ڈالر کا اِضافہ کرنے کا وعدہ کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہاکہ ہم رعایتیں دے رہے ہیں، لیکن بدلے میں ہمیں کچھ نہیں مل رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم بے کار ہیں۔ ہمارا ٹیرف تین فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہوگیا جبکہ امریکی ٹیرف مبینہ طور پر 16 فیصد سے کم ہو کر صفر ہو گیا ہے۔
