سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف ہونے کے ناطے راجہ ناصر عباس کا ایمان مزاری کے کیس سے نہ کوئی آئینی تعلق ہے اور نہ ہی قانونی اختیار، پھر یہ مداخلت کیوں؟ کیا وہ ایک ایسے کردار کے ساتھ کھڑے ہیں جس پر انتشار، ادارہ مخالف بیانیے اور افراتفری کو ہوا دینے کے الزامات بارہا لگ چکے ہیں؟ یا یہ حمایت صرف اس لیے ہے کہ وہ ایک پی ٹی آئی سیاستدان کی بیٹی ہیں، جہاں قانون اور میرٹ ثانوی ہو گئے؟ اور اگر نہ قانون بنیاد ہے نہ میرٹ، تو پھر سوال یہی اٹھتا ہے کہ کہیں اس معاملے کو فرقہ وارانہ ہمدردی میں تو نہیں بدلا جا رہا؟
راجہ ناصر عباس کا منصب انہیں پارلیمانی سیاست تک محدود کرتا ہے، کسی فرد کے زیرِ سماعت عدالتی کیس میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ جب معاملہ ایک ایسی شخصیت سے جڑا ہو جس کا نام بارہا انتشار، تصادم اور ریاستی اداروں کے خلاف زبان کے ساتھ لیا گیا ہو، تو یہ سوال فطری ہے کہ دفاع کس چیز کا ہو رہا ہے؟ اگر یہ موقف صرف اس لیے اپنایا گیا ہے کہ ملزمہ کا تعلق پی ٹی آئی کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے، تو پھر میرٹ کہاں کھڑا ہے؟ اور جب قانونی اصول غائب ہوں تو خدشہ یہی ہوتا ہے کہ کہیں معاملہ سیاست کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ رنگ بھی نہ اختیار کر رہا ہو۔
سینیٹ کی اپوزیشن لیڈر شپ کا استعمال ایک ایسے کیس میں کرنا جس سے کوئی آئینی تعلق نہیں، خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔کیا یہ اقدام ایک ایسے فرد کے لیے ہے جس کا طرزِ عمل مسلسل انتشار اور محاذ آرائی سے جڑا رہا ہے؟ یا یہ حمایت محض اس بنیاد پر ہے کہ وہ پی ٹی آئی سیاستدان کی صاحبزادی ہیں، جہاں قانون سب کے لیے برابر نہیں رہا؟ اگر معاملہ قانون یا اصول کا نہیں تو پھر عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آیا اس کے پیچھے فرقہ وارانہ سیاست کارفرما ہے یا نہیں۔
