بھارتی ریاست راجستھان کی اسمبلی نے مذہب کی جبری تبدیلی کو روکنے کے لیے سخت قوانین پر مبنی بل منظور کر لیا ہے، جس میں عمر قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزائیں شامل ہیں۔
بل کے تحت دھوکہ، لالچ، جبر یا دباؤ کے ذریعے مذہب تبدیل کروانے کو جرم قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کی جائیداد ضبط کرنے اور بعض صورتوں میں مسمار کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ جرمانے کی رقم متاثرہ افراد کو دی جائے گی۔
قانون کے مطابق وہ افراد جو اپنے “آبائی مذہب” میں واپس آتے ہیں، اس قانون سے مستثنیٰ ہوں گے۔ مزید یہ کہ مذہب تبدیلی کے مقصد سے کی جانے والی شادیوں کو کالعدم قرار دیا جائے گا۔
اسمبلی میں اس بل پر بحث کے دوران اپوزیشن جماعت کانگریس نے احتجاجاً بائیکاٹ کیا اور واک آؤٹ کیا، ان کا مؤقف تھا کہ یہ قانون معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کرے گا اور کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہے اور کسی بھی قسم کی زبردستی مذہب تبدیلی کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
یہ قانون راجستھان کو ان ریاستوں کی فہرست میں شامل کرتا ہے جہاں اس نوعیت کے قوانین پہلے سے نافذ ہیں۔
راجستھان میں مذہب تبدیلی روکنے کا بل منظور، عمر قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں
