Baaghi TV

ریپ کیسز کے مدعی ہی ملزمان کے محافظ نکلے

گوجرخان (قمرشہزاد) سرکل گوجرخان کے تینوں تھانوں میں ریپ کیسز کے حوالے سے سنسنی خیز حقائق سامنے آنے کے بعد راولپنڈی پولیس نے انصاف بیچنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کر لیا۔

سی پی او راولپنڈی سید خالد ہمدانی نے سخت ایکشن لیتے ہوئے ان 18 کمپلینٹس کے خلاف اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں جنہوں نے عدالتوں میں ملزمان کے ساتھ ساز باز کر کے اپنے بیانات بدلے اور سنگین جرائم میں ملوث درندوں کی بریت کی راہ ہموار کی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، راولپنڈی پولیس کی جانب سے کیے گئے ایک آڈٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ گوجرخان سرکل میں زیادتی کے کئی مقدمات میں کمپلینٹس نے دورانِ ٹرائل عدالت میں اپنے ابتدائی بیانات سے انحراف کیا۔ انکشاف ہوا ہے کہ مدعیان نے مبینہ طور پر بھاری رقوم کے عوض یا پسِ پردہ معاہدوں کے تحت ملزمان کو کلین چٹ دی، جس سے ریاست کی رٹ اور قانون کا مذاق اڑایا گیا۔ سی پی او راولپنڈی کے احکامات پر صدر ڈویژن کے تینوں تھانوں میں کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تھانہ گوجرخان میں درج 11 ایسے مقدمات کی نشاندہی ہوئی ہے جہاں مدعی ملزمان کے سہولت کار بنے۔ جبکہ تھانہ جاتلی کے 5 کمپلینٹس کے خلاف بھی کارروائی کے احکامات سمیت تھانہ مندرہ کے 2 ایسے کیسز بھی سامنے آئے جہاں بیانات بدل کر انصاف کا خون کیا گیا۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریپ جیسے گھناؤنے جرم کو کاروبار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایسے عناصر جو پہلے سنگین الزامات لگا کر ریاست کو حرکت میں لاتے ہیں اور بعد ازاں ملزمان سے ساز باز کر کے مکر جاتے ہیں، وہ اب خود جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔ اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت ان 18 افراد کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی شروع کر دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ اس اقدام نے جہاں علاقے میں کھلبلی مچا دی ہے، وہی اسے انصاف کے نظام کی شفافیت کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کی یہ مہم انصاف کے سوداگروں کو انجام تک پہنچانے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے

More posts