وفاقی آئینی عدالت نے زیادتی کے خلاف خاتون کی درخواست خارج کر دی۔
جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی،دورانِ سماعت جسٹس حسن رضوی نے استفسار کیا کہ خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اسی شخص سے شادی کیوں کر لی،عدالت میں ملزمہ کی وکیل نے کہا کہ ملزم نے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے خاتون سے شادی کی،جسٹس روزی خان نے سوال کیا کہ شادی کر لی تو پھر خاتون کو طلاق کیسے ہو گئی،اس پر خاتون وکیل نے جواب دیا کہ ملزم نے 17جون 2025ء کو زیادتی کی، 26 جون کو دونوں کی شادی ہو گئی اور 6 اگست کو ملزم نے خاتون کو طلاق دے دی،جسٹس روزی خان نے کہا کہ ریپ، شادی، طلاق یہ سب کچھ بہت جلدی نہیں ہو گیا؟ ایسی کہانیاں تو فلموں میں ہوتی ہیں
