ایران میں اصلاح پسندوں کے اتحاد ریفارم فرنٹ کے ترجمان جواد امام کو پاسدارانِ انقلاب نے گرفتار کر لیا ہے، جب کہ اسی روز ریفارم فرنٹ سے تعلق رکھنے والے مزید تین سیاستدانوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق جواد امام کو گزشتہ روز ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کی کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کی گئی، جس کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ حکام کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گرفتار افراد کو کہاں رکھا گیا ہے یا ان سے کب عدالت میں پیشی کرائی جائے گی۔ایرانی عدلیہ کے مطابق گرفتار سیاستدانوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے حالیہ مظاہروں کے دوران ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی۔ عدالتی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے میں ملوث رہے۔
ایرانی عدلیہ کا مزید کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر امریکا اور اسرائیل کے مفادات کے لیے کام کرنے کا بھی الزام ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں حالیہ مہینوں کے دوران مختلف سماجی و سیاسی مسائل پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں، جن کے بعد حکام کی جانب سے متعدد کارکنوں اور سیاستدانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ریاستی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں، جب کہ ناقدین ان اقدامات کو سیاسی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
