امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان کے ثالثی کردار پر بعض عرب مبصرین کی جانب سے تنقید سامنے آنے کے بعد اس حوالے سے مؤقف بھی سامنے آ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کچھ عرب صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو ملک کسی فریق کا اتحادی ہو وہ ثالث کا کردار ادا نہیں کر سکتا، اور پاکستان کو غیر جانبدار رہنے کے بجائے ایک فریق کا ساتھ دینا چاہیے۔
جوابی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ یہ سوچ ایک پیچیدہ صورتحال کو سادہ انداز میں پیش کرنے کے مترادف ہے، جہاں معاملات کو ’ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف‘ جیسے بیانیے تک محدود کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق کچھ عرب ممالک جنگ کے فوری خاتمے کے حق میں نہیں بلکہ ممکنہ طور پر امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر اس میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ جنگ کا حل مزید لڑائی نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی راستے میں ہے، کیونکہ کسی بھی جنگ کا اختتام اور اس کے بعد کا منظرنامہ سب سے اہم ہوتا ہے۔
مؤقف میں کہا گیا ہے کہ اگر خطے کے ممالک جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے نفرت اور دشمنی میں مزید اضافہ ہوگا، جبکہ آخرکار خطے کے تمام ممالک کو ایک ساتھ رہنا ہی ہے۔
پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کے پاس جنگی اور سفارتی تجربہ موجود ہے اور وہ ایک ایسا حل چاہتا ہے جو دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنائے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی شکست خوردہ فریق کو ذلیل کرنا تاریخ میں ہمیشہ منفی نتائج کا باعث بنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا حل تلاش کیا جائے جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔
پاکستان کے ثالثی کردار پر تنقید، جواب سامنے آ گیا
