ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینا امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کا ایک اہم نکتہ ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد وقتی طور پر آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال ہوئی، تاہم ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں ایک بار پھر تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر یونان اور لائبیریا کے دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، مگر بعد ازاں ایران نے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر سخت اقدامات نافذ کر دیے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر فی بیرل ایک ڈالر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ایرانی پیٹرولیم ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حامد حسینی نے بتایا کہ یہ ٹول ٹیکس کرپٹو کرنسی میں وصول کیا جائے گا اور ہر جہاز کو اپنے کارگو کی مکمل تفصیلات ایرانی حکام کو فراہم کرنا ہوں گی۔ جانچ کے بعد جہازوں کو چند سیکنڈز میں بٹ کوائن کے ذریعے ادائیگی کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہر جہاز کی نگرانی کرنا چاہتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے کسی قسم کی ہتھیاروں کی ترسیل نہ ہو۔ خالی جہازوں کو بغیر فیس کے گزرنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ تیل بردار جہازوں پر ٹیکس لاگو ہوگا۔
ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے تحت ایران اور عمان دونوں اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے محصولات وصول کریں گے، جبکہ ایران اس آمدن کو تعمیر نو کے لیے استعمال کرے گا۔
ادھر غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ خلیج میں اس وقت تقریباً 187 جہاز موجود ہیں جن پر 175 ملین بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات لدی ہوئی ہیں، جو صورتحال بہتر ہونے کے منتظر ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
لبنان پر اسرائیلی حملوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ بند
