نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ریاست مخالف اور دہشت گرد تنظیم کی حمایت میں مواد پھیلانے کے الزام میں ایک سرکاری ملازم کو گرفتار کر لیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم ظفر اقبال ریڈیو پاکستان میں نائب قاصد کے طور پر تعینات تھا، جس کے خلاف اندرونی انکوائری مکمل ہونے کے بعد اسے ملازمت سے بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔ترجمان این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم ظفر اقبال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی حمایت میں مجموعی طور پر 13 اشتعال انگیز اور ریاست مخالف پوسٹس شیئر کیں۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مواد نہ صرف قانون کے خلاف تھا بلکہ اس کا مقصد عوام میں نفرت، اشتعال اور فتنہ انگیزی پھیلانا تھا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم نے پہلے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) سے ایک اسٹے آرڈر بھی حاصل کر رکھا تھا، تاہم شواہد سامنے آنے کے بعد قانون حرکت میں آیا اور ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت باقاعدہ کارروائی کی گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ ظفر اقبال اس سے قبل ریڈیو پاکستان کوئٹہ میں بطور نائب قاصد خدمات انجام دے چکا ہے۔ اس کے دہشت گرد عناصر سے ممکنہ روابط کے شبے پر سیکیورٹی اداروں نے انکوائری شروع کی، جس دوران سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور قابلِ اعتراض مواد سامنے آیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق عدالت نے ملزم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے تاکہ تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ عدالت نے اس کے ڈیجیٹل ڈیوائسز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فرانزک اور تکنیکی تجزیے کے لیے تحویل میں لینے کی بھی اجازت دے دی ہے۔حکام کے مطابق تفتیش کے دوران یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ملزم اکیلا اس سرگرمی میں ملوث تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک بھی کام کر رہا تھا۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ریاست مخالف اور دہشت گرد بیانیے کے پھیلاؤ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رکھا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
