Baaghi TV

دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاستی اداروں کے ساتھ پوری قوم کو میدان میں آنا ہوگا،تجزیہ:شہزاد قریشی

غیر قانونی عناصر اور قومی سلامتی اب فیصلہ کن اقدامات کا وقت آ گیا ہے

پاکستان کے امن کے خلاف سازشیں ناکام بنائیں قومی یکجہتی ہی کامیابی کی ضمانت ہے

تجزیہ شہزاد قریشی

ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا خطرہ محض داخلی نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ بیرونی عناصر بھی سرگرم ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے حوالے سے جو شواہد سامنے آتے رہے ہیں، وہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے دشمن عناصر ملک کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

اس تناظر میں غیر قانونی غیر ملکیوں، خصوصاً غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ماضی میں ریاستی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کی جانب سے مؤثر اور بلاامتیاز کارروائیاں کی جاتیں تو آج بار بار اس بات کی ضرورت پیش نہ آتی کہ غیر قانونی مقیم افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے۔ یہ صرف وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ضلعی اور تحصیل سطح کی انتظامیہ بھی اس حوالے سے جوابدہ ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں قانون کے نفاذ کو یقینی بنائے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر میں رجسٹریشن، شناخت اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ کوئی بھی غیر قانونی فرد ریاستی نگرانی سے باہر نہ رہے۔ اسی طرح نجی سیکیورٹی اداروں میں بھرتی ہونے والے افراد کی مکمل جانچ پڑتال، بائیو میٹرک تصدیق اور پس منظر کی چھان بین بھی ناگزیر ہے۔ قومی سلامتی کے تقاضے یہی ہیں کہ ہر ایسے شعبے پر کڑی نظر رکھی جائے جو حساس نوعیت کا حامل ہو۔

تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف پاک فوج، سیکیورٹی اداروں یا پولیس کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پوری قوم کی اجتماعی جنگ ہے۔ جب تک عوام، سیاسی قیادت، سول انتظامیہ، میڈیا اور تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر کھڑے ہو کر اپنا اپنا کردار ادا نہیں کریں گے، اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

آج وقت کا تقاضا ہے کہ قومی مفاد کو ہر قسم کی سیاسی، لسانی اور علاقائی تقسیم سے بالاتر رکھا جائے۔ پاکستان کے امن و استحکام کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے قومی یکجہتی، قانون کی بالادستی اور اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ معرکہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ قومی شعور، اجتماعی ذمہ داری اور غیر متزلزل عزم سے جیتا جاتا ہے۔ جب پوری قوم ایک آواز بن جائے تو کوئی دشمن، خواہ وہ اندرونی ہو یا بیرونی، پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

More posts