اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی موت سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک بار پھر مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں۔ بعض پوسٹس میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے گھر پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے اور یہ خبر گزشتہ چار دنوں سے غیر مصدقہ طور پر پھیل رہی ہے۔
ان دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا کہ اس مبینہ حملے میں نیتن یاہو کے بھائی اور اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر بھی مارے گئے۔ تاہم ان دعوؤں کی اب تک کسی سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسی دوران اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں نیتن یاہو کو براہ راست ٹی وی پر خطاب کرتے دکھایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے اس ویڈیو پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ہو سکتی ہے۔
کچھ صارفین نے ویڈیو کے ایک منظر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کے ہاتھ میں چھ انگلیاں نظر آ رہی ہیں جس کے بعد ویڈیو کی حقیقت پر مزید بحث شروع ہو گئی ہے۔
تاہم اب تک اسرائیلی حکومت یا کسی معتبر بین الاقوامی ادارے نے نیتن یاہو کی موت یا زخمی ہونے کی کوئی تصدیق نہیں کی۔ صورتحال کے حوالے سے حتمی معلومات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
نیتن یاہو کی موت کی افواہیں گردش میں، اسرائیلی حکومت کی ویڈیو پر بھی سوالات اٹھ گئے
