روس نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے حل میں مدد فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس اس تنازع کو کم کرنے اور حالات کو پُرامن راستے پر لانے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اس وقت خطے کے مختلف رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر پیوٹن کی جانب سے سفارتی روابط کا سلسلہ جاری ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لانے کے امکانات کو تقویت دی جا سکے۔
دمتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ اگر روس کی خدمات درکار ہوئیں تو ماسکو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ موجودہ جنگی صورتحال جلد ختم ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے۔
دوسری جانب کریملن نے تصدیق کی ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن آج مصر کے وزیر خارجہ کی میزبانی کریں گے۔ اس ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی سمیت مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
کریملن کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر بھی گفتگو ہوگی جبکہ خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے مختلف امور زیر غور آئیں گے۔
روس کی جانب سے یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
روس کا ایران امریکا تنازع میں کردار ادا کرنے کا اعلان
