روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی احترام کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔
روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاک افغان سرحد پر جاری جھڑپوں اور لڑائی کی اطلاعات تشویش کا باعث ہیں۔ بیان کے مطابق حالیہ دنوں میں سرحدی علاقوں میں طیاروں اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ مسلح تصادم کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ایران سے واپس آنے والے افغان مہاجرین بھی اس کشیدہ صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں جس کے باعث انسانی مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بیان میں کابل اور اسلام آباد سے اپیل کی گئی کہ وہ فوجی تصادم سے گریز کریں اور باہمی احترام کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
روس نے ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ایسے آثار نظر نہیں آ رہے کہ امریکا اور اسرائیل خطے میں تحمل یا خونریزی روکنے کے لیے تیار ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق جارحانہ کارروائیاں کرنے والے عناصر اسلامی دنیا میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روسی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ خطے میں مزید بگاڑ سے بچنے کے لیے فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کی جائیں۔
روس کا پاک افغان کشیدگی پر اظہار تشویش، مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل
