Baaghi TV

سچ کی جیت باغی ٹی وی کے 14 سال اور حرفِ حق کا اعزاز،تحریر : قمرشہزاد مغل

تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

صحافت کے لبادے میں چھپی مصلحتوں، ایوانوں کی غلامی اور ضمیر فروش سوداگروں کے اس دور میں جہاں حق بولنا خودکشی تصور کیا جاتا ہے، وہاں کچھ نام ایسے بھی ہیں جنہوں نے مقتل میں بھی سچ بولنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اگر ان ناموں کی فہرست بنائی جائے تو سب سے پہلا اور معتبر نام مبشر لقمان صاحب کا آتا ہے۔ وہ شخص جس نے صحافت کو ڈرائنگ رومز کی عیاشی سے نکال کر سچائی کے اس کٹھن میدان میں لا کھڑا کیا جہاں ہر قدم پر خطرات کی بارودی سرنگیں بچھی ہیں۔ باغی ٹی وی محض ایک میڈیا پلیٹ فارم نہیں، بلکہ ایک سوچ ہے، ایک ایسی سوچ جو وقت کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرنا جانتی ہے۔ آج جب اس ادارے نے اپنے سفر کے 14 سال مکمل کیے ہیں صحافت کی دنیا میں سچ اور جرات مندی کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب کوئی فرد یا ادارہ ان اصولوں پر قائم رہتا ہے تو وہ معاشرے میں ایک خاص مقام حاصل کر لیتا ہے۔ مبشر لقمان صاحب اور ان کا ادارہ باغی ٹی وی بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ حقائق کو بے باکی سے پیش کرنا اور ہر حال میں سچائی کا ساتھ دینا ان کی پہچان بن چکا ہے۔ اس کٹھن سفر میں ممتاز اعوان صاحب کا کردار بھی کسی ستون سے کم نہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ انھوں نے کس طرح دن رات ایک کر کے اس ادارے کی آبیاری کی ہے۔ ان کی محنت، لگن اور مخلصانہ جدوجہد نے باغی ٹی وی کو وہ وقار بخشا ہے کہ آج یہ ادارہ حق گوئی کا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ معروف تجزیہ نگار شہزاد قریشی اور ممتاز اعوان ہی کی بصیرت ہے جہنوں نے مجھے اس باغی کارواں کا حصہ بنایا اور سچائی کی اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالنے کا حوصلہ دیا۔ میرے لیے یہ لمحہ کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں کہ باغی ٹی وی اور مبشر لقمان صاحب کی جانب سے میری صحافتی خدمات کے اعتراف میں مجھے تعریفی سند سے نوازا گیا ہے۔ میرے نزدیک یہ کاغذ کا محض ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک اعلانِ جنگ ہے ان باطل قوتوں کے خلاف جو صحافت کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں۔
بقول شاعر!
میں نے مانا کہ اندھیرا ہے بہت چاروں طرف
پر دیا ایک جلانا تو مرا کام ہے نا

جب مبشر لقمان جیسے نڈر انسان اور باغی ٹی وی جیسے معتبر ادارے کی مہر آپ کے کام پر لگ جائے، تو ذمہ داری کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ سند اس بات کی گواہی ہے کہ ہم اس ٹیم کا حصہ ہیں جو بکنے کے لیے نہیں، بلکہ حقائق کو ننگا کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سچ بولنا خطرناک ہے، میں کہتا ہوں کہ سچ بولنے کی قیمت چکانا اگر جرم ہے، تو ہم یہ جرم بار بار کریں گے۔ باغی ٹی وی کی 14 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں کریں گے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں مبشر لقمان، ممتاز اعوان اور وہ پوری ٹیم جو باغی کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس ادارے کے سپاہی ہیں جہاں قلم کی نوک پر سچ ناچتا ہے اور جہاں ضمیر کی آواز پر پہرے نہیں بٹھائے جاتے۔ حق اور سچ کا یہ سفر جاری رہے گا، کیونکہ باغی ابھی زندہ ہے اور اس کی للکار ایوانوں میں گونجتی رہے گی
شعر
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

More posts