Baaghi TV

سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

موجودہ عالمی حالات، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، بین الاقوامی سیاست میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور طاقت کے توازن میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں ایک ایسے نازک مرحلے کی نشاندہی کر رہی ہیں جہاں ہر ریاست کو نہایت دانشمندی اور محتاط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ایسے پیچیدہ ماحول میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا متوازن اور محتاط رہنا ایک قابلِ غور پہلو ہے۔

وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے جس انداز میں سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک سنجیدہ اور منظم حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی دباؤ، علاقائی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے مفادات کے بیچ پاکستان کو غیر ضروری تنازعات سے دور رکھتے ہوئے ایک متوازن پوزیشن پر قائم رکھنا ایک مشکل مگر اہم کامیابی ہے۔

اسی طرح ریاستی سطح پر پاک فوج اور دیگر قومی اداروں کا کردار بھی نمایاں رہا ہے، جنہوں نے اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود ملک کے استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم ذمہ داری نبھائی۔ یہ ہم آہنگی دراصل ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کی عکاس ہے، جو کسی بھی ریاست کے لیے ایسے نازک دور میں ناگزیر ہوتی ہے۔
اسحاق ڈار کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بیک وقت مختلف شعبوں میں متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے دور میں ان کی مصروفیات، معیشت کی بہتری کے لیے ان کی کوششیں، اور اب بطور وزیر خارجہ سفارتی محاذ پر سرگرمی،یہ سب ان کی کثیرالجہتی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ وہ پیشہ ور قانون دان نہیں، مگر قانون سازی کے عمل میں ان کی شمولیت اور سیاسی بصیرت ایک تجربہ کار سیاستدان کی پہچان ہے۔

مزید برآں، نواز شریف کی سیاسی حکمتِ عملی کو برقرار رکھنے اور اسے آگے بڑھانے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی جیسے اہم سیاسی معاہدے میں ان کی شمولیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ حالات بلکہ ماضی کے اہم موڑ پر بھی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت حساس دور سے گزر رہا ہے، جہاں ہر فیصلہ مستقبل کی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ ایسے میں خارجہ پالیسی کی دانشمندانہ سمت، اداروں کی ہم آہنگی اور قیادت کی مسلسل کاوشیں وہ عوامل ہیں جو ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو یقیناً آج کے یہ اقدامات مستقبل میں ایک مثبت مثال کے طور پر تاریخ کا حصہ بنیں گے۔

More posts