صحافت کو معاشرے کی آنکھ، کان اور ضمیر کہا جاتا ہے یہی وہ شعبہ ہے جو عوام اور حکمرانوں کے درمیان رابطے کا کام انجام دیتا ہے مسائل کو اجاگر کرتا ہے اور سچائی کو منظر عام پر لاتا ہے لیکن جب ہم صحافت کی دنیا پر گہری نظر ڈالتے ہیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بڑے شہروں کے صحافیوں کو شہرت، وسائل اور مواقع زیادہ میسر آتے ہیں جبکہ چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں کام کرنے والے صحافی اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟
ملک کے دور دراز علاقوں میں ایسے بے شمار صحافی موجود ہیں جو شدید گرمی، سخت سردی، بارش، سیلاب، بدامنی اور دیگر خطرات کے باوجود عوام کی آواز بننے کی کوشش کرتے ہیں وہ روزانہ ایسے مسائل رپورٹ کرتے ہیں جو براہ راست عوام کی زندگی سے جڑے ہوتے ہیں مگر افسوس کہ ان کی محنت کو وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہیں۔
سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بیشتر قومی میڈیا اداروں کی توجہ بڑے شہروں تک محدود ہوچکی ہے، کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہونے والے معمولی واقعات بھی قومی خبر بن جاتے ہیں جبکہ کسی چھوٹے شہر میں اگر پانی کا بحران، اسپتالوں کی بدحالی، تعلیم کی تباہی، کسانوں کی مشکلات یا امن و امان کا سنگین مسئلہ ہو تو وہ شاید ہی قومی میڈیا کی سرخی بن سکے اس عدم توازن نے چھوٹے شہروں کے صحافیوں کو احساس محرومی میں مبتلا کردیا ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ وسائل کی کمی ہے بڑے شہروں میں کام کرنے والے صحافیوں کو جدید آلات، تربیت، تکنیکی سہولیات اور ادارہ جاتی معاونت حاصل ہوتی ہے جبکہ چھوٹے شہروں کا صحافی اکثر اپنے ذاتی موبائل فون، موٹر سائیکل اور محدود وسائل کے ساتھ رپورٹنگ کرتا ہے کئی صحافی اپنی جیب سے سفری اخراجات برداشت کرتے ہیں، مگر پھر بھی ان کی خبریں یا تو نظر انداز کردی جاتی ہیں یا کسی دوسرے کے نام سے نشر ہوجاتی ہیں۔
معاشی مسائل بھی اس محرومی کی ایک بڑی وجہ ہیں ملک کے بیشتر اضلاع میں کام کرنے والے صحافی مناسب تنخواہ، ملازمت کا تحفظ، ہیلتھ انشورنس یا دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بہت سے نامہ نگار برسوں تک صرف پریس کارڈ کے سہارے صحافت کرتے رہتے ہیں انہیں نہ مستقل ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی ان کی پیشہ ورانہ خدمات کا مناسب اعتراف کیا جاتا ہے ایسے حالات میں صحافت کو بطور پیشہ جاری رکھنا آسان نہیں رہتا۔
چھوٹے شہروں کا صحافی صرف معاشی مسائل ہی نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی دباؤ کا بھی سامنا کرتا ہے چونکہ وہ اپنے ہی علاقے میں رہتا ہے اس لیے بااثر شخصیات، سیاسی گروہوں، جاگیرداروں یا سرکاری افسران پر خبر شائع کرنا بعض اوقات اس کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اسے دھمکیوں، مقدمات، سماجی بائیکاٹ اور مختلف قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ چھوٹے شہروں کی خبریں اکثر اس وقت اہمیت حاصل کرتی ہیں جب کوئی بہت بڑا سانحہ پیش آجائے، حادثات، قتل، سیلاب یا دیگر بڑے واقعات کے دوران قومی میڈیا وہاں پہنچ جاتا ہے لیکن جیسے ہی حالات معمول پر آتے ہیں وہی شہر اور وہی صحافی دوبارہ تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں حالانکہ صحافت کا مقصد صرف سانحات کی رپورٹنگ نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر عوامی مسائل کی نشاندہی بھی ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا نے اگرچہ کچھ نئی راہیں ضرور کھولی ہیں مگر یہاں بھی وسائل اور رسائی کا فرق موجود ہے بڑے اداروں کے پاس جدید اسٹوڈیوز، ٹیمیں اور سرمایہ موجود ہے جبکہ ضلعی صحافی محدود سہولیات کے باوجود قومی معیار کا کام کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کی محنت اکثر ویوز، اشتہارات اور شہرت کی دوڑ میں دب کر رہ جاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ہاؤسز اپنے ضلعی اور تحصیل سطح کے نمائندوں کو صرف خبر بھیجنے والی مشین نہ سمجھیں بلکہ انہیں ادارے کا اہم حصہ تصور کریں ان کی تربیت، مناسب معاوضہ، جدید آلات، قانونی تحفظ اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں قومی میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ پاکستان کے ہر ضلع ہر قصبے اور ہر گاؤں کی آواز کو یکساں اہمیت دے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی اصل تصویر صرف بڑے شہروں سے نہیں بنتی اس ملک کی روح اس کے چھوٹے شہروں، دیہات، کھیتوں، بازاروں اور گلیوں میں آباد ہے، اگر ان علاقوں کے مسائل قومی میڈیا میں جگہ نہیں پائیں گے تو عوام کا ایک بڑا طبقہ خود کو ہمیشہ نظر انداز محسوس کرے گا۔
ایک مضبوط اور باوقار صحافت وہی ہے جو دارالحکومت کے ایوانوں سے لے کر دور افتادہ دیہات تک ہر آواز کو برابر اہمیت دے چھوٹے شہروں کے صحافی کسی سے کم نہیں انہیں صرف مواقع، وسائل اور وہ احترام درکار ہے جس کے وہ اپنی محنت، قربانی اور پیشہ ورانہ دیانت کے باعث حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔
