بچے کسی بھی معاشرے کا سب سے نازک، شفاف اور خوبصورت استعارہ ہوتے ہیں۔ وہ گلشنِ حیات کی وہ نوخیز کلیاں ہیں جن کی مہک سے انسانیت کا دامن معطر رہتا ہے۔ ان کی معصوم آنکھوں میں خواب جگمگاتے ہیں اور ان کی مسکراہٹوں میں زندگی کا حسن سانس لیتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ آج کا سفاک، مادہ پرست اور خود غرض معاشرہ انہی معصوم کلیوں کے لیے کانٹوں کی سیج بنتا جا رہا ہے۔ عدمِ تحفظ، تشدد، جبری مشقت اور ذہنی و جسمانی استحصال کی تلخیاں ان ننھے فرشتوں کے بچپن کو نگل رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک مہذب معاشرے کے طور پر ہم نے اپنے فرائض کا حق ادا کیا ہے؟
بچوں کی حفاظت محض حکومتی قوانین یا کاغذی پالیسیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت سماجی، اخلاقی اور دینی فریضہ ہے۔ تحفظ کی پہلی اینٹ گھر کی دہلیز پر رکھی جاتی ہے۔ والدین کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اولاد کے لیے خوف کی علامت بننے کے بجائے ایسا سائبان بنیں جہاں وہ مکمل امان محسوس کریں۔ جدید دور میں جہاں فاصلے گھٹ کر سکرینوں میں سمٹ چکے ہیں، وہاں ڈیجیٹل دنیا کے خطرات بچوں کے ذہنوں پر خاموش وار کر رہے ہیں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ دوستانہ اور بااعتماد مکالمہ قائم کریں تاکہ وہ باہر یا انٹرنیٹ پر درپیش کسی بھی غیر معمولی رویے یا خطرے کو بلا خوف بیان کر سکیں۔
تعلیمی ادارے اور اساتذہ اس زنجیر کی دوسری اہم کڑی ہیں۔ اسکول محض نصابی کتب کے رٹنے کی جگہ نہیں بلکہ کردار سازی اور حفاظت کا قلعہ ہونا چاہیے۔ اساتذہ کو بچوں کی نفسیات پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور انہیں ‘محفوظ اور غیر محفوظ لمس’ کے فرق سے باخبر کرنا چاہیے۔ جسمانی سزا کی فرسودہ روایت کو یکسر ختم کر کے محبت اور تفہیم کا ماحول پروان چڑھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
معاشرتی سطح پر ہمیں اپنی اجتماعی بے حسی کا پردہ چاک کرنا ہوگا۔ گلی محلوں میں کھلنے والے پھولوں پر منڈلانے والے گدھوں کا راستہ روکنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اپنے محلے کے کسی بچے پر ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش رہتے ہیں، تو ہم دراصل اس ظلم کی خاموش تائید کر رہے ہوتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ بچوں کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائیں اور مجرموں کو ایسی عبرت ناک سزائیں دی جائیں کہ کوئی معصومیت کا سودا کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
بچے ہمارا مستقبل نہیں بلکہ ہمارا حال ہیں۔ اگر ہم نے اپنے حال کو خوف، تشدد اور استحصال کے اندھیروں میں دھکیل دیا تو روشنی کا ہر امکان دم توڑ دے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست، اساتذہ اور والدین مل کر ایک ایسا حفاظتی حصار تشکیل دیں جہاں ہر بچہ کھل کر ہنس سکے، نڈر ہو کر کھیل سکے اور باعزت طریقے سے اپنے خوابوں کی تعبیر پا سکے۔ معصومیت کا تحفظ ہی دراصل انسانیت کی بقا ہے۔
