قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکنِ قومی اسمبلی،پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما، سحر کامران نے زرعی شعبے کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں کو کسان دشمن قرار دے دیا۔
انہوں نے ایوان میں خطاب کے دوران کہا کہ ہر مقامی فصل کی کٹائی سے قبل ایسے حالات دانستہ طور پر پیدا کر دیے جاتے ہیں جن سے زرعی اجناس کی درآمد (امپورٹ) کا جواز بنایا جا سکے، جس کا براہِ راست نقصان ملکی کسان کو اٹھانا پڑتا ہے۔سحر کامران نے کہا کہ کسان پہلے ہی گزشتہ دو برسوں سے گندم کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور حکومتی عدم توجہی نے کسانوں کو معاشی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کسان مزید نقصان برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے، مگر اس کے باوجود حکومت کی پالیسیاں کسانوں کے مسائل کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کر رہی ہیں۔
ایوان میں خطاب کے دوران سحر کامران نے وفاقی وزیر سے براہِ راست سوال کیا کہ سال 2024 اور 2025 کے دوران کتنی چینی درآمد کی گئی، یہ درآمد کن ممالک سے ہوئی اور اس پر ٹیکس میں کتنی چھوٹ دی گئی۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اس حوالے سے مکمل معلومات فراہم کرنے اور کوئی تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے، جس سے شفافیت پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
انہوں نے کھاد کی قیمتوں سے متعلق حکومتی دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا بالکل درست نہیں کہ فرٹیلائزر کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ سحر کامران کے مطابق حکومت کھاد کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست کسان بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھاد بنانے والی کمپنیاں قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر کے اربوں روپے کا منافع کما رہی ہیں، مگر اس کے باوجود کسانوں کو کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کیا جا رہا۔سحر کامران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی شعبے کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور کسان دشمن پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ مقامی پیداوار کو ترجیح دی جائے، درآمدی پالیسیوں میں شفافیت لائی جائے اور کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ دیا جائے، تاکہ ملکی معیشت کی بنیاد سمجھے جانے والے زرعی شعبے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔
