میں ہمیشہ کی طرح اپنی نائٹ ڈیوٹی پر تھی اور رات اپنی سیاہ چادر آہستہ آہستہ شہر پر تان رہی تھی۔ کھڑکی کے پار ذرد بتیوں میں نہایا ہوا شہر بظاہر زندہ دکھائی دیتا تھا مگر میرے اندر ایک عجب ویرانی بسی ہوئی تھی۔ ہال میں مکمل سکوت تھا لیکن اس سکوت کے اندر ایک ایسا شور چھپا تھا جو لمحہ لمحہ میرے وجود سے ٹکراتا رہتا تھا۔ ایسا شور جسے نہ کوئی سن سکتا تھا اور نہ میں بیان کر سکتی تھی۔
میری کولیگ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظروں میں لا تعداد سوال تھے۔ آخر کار وہ خود ہی گویا ہوئی۔
"بینا تم بدل گئی ہو۔۔۔۔!”
اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ اس کے لہجے میں شکوے کے ساتھ ساتھ فکر بھی نمایاں تھی۔
میں نے مسکرانے کی کوشش کی مگر بعض مسکراہٹیں صرف لبوں تک محدود رہتی ہیں، دل تک نہیں پہنچ پاتیں۔
"وقت سب کو بدل دیتا ہے۔”
میں نے مختصر جواب دیا.
"نہیں؛ وقت صرف چہرے بدلتا ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کو حالات بدلتے ہیں اور تمہیں بھی کسی گہرے دکھ نے خاموش کر دیا ہے۔”
میں چند لمحے خاموش رہی اور سوچنے لگی کہ شاید وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔ انسان کے اندر اچانک سے سکوت نہیں چھا جاتا بلکہ اس کے اندر بہت کچھ مرتا ہے تب کہیں جا کر لفظ دم توڑنے لگتے ہیں۔
میں کھڑکی کے قریب کھڑی ہو کر باہر کی سرد ہوا کو محسوس کرنے لگی۔ جو درختوں کے پتوں کو ہلا رہی تھی۔ عجیب بات ہے ناں! درخت بھی خاموش ہوتے ہیں مگر ان کی خاموشی میں زندگی ہوتی ہے۔ جب کہ انسان کی خاموشی اکثر اندر سے ٹوٹ جانے کی علامت بن جاتی ہے۔
"کیا تم جانتی ہو؟” میں نے آہستگی سے کہا؛
"خاموشی ہمیشہ سکون نہیں دیتی بلکہ بعض خاموشیاں انسان کو اندر ہی اندر کھا جاتی ہیں۔”
وہ غور سے میری طرف دیکھنے لگی۔
میں نے بات جاری رکھتے ہوئے پھر سے کہنا شروع کیا۔
"میرے اندر ایک شور بستا ہے۔ ایک ایسا شور جو کسی بازار، کسی جنگ، کسی ہجوم سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ شور ان لفظوں کا ہے جو کبھی کہے نہ جا سکے۔ ان خوابوں کا ہے جو حقیقت بننے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔ ان رشتوں کا ہے جو وقت کی دھول میں کہیں گم ہو گئے۔”
ہال میں ایک بوجھل سی خاموشی اتر آئی۔
"تم نے کبھی کسی سے اپنے دل کی بات نہیں کی؟”
اس نے سوال کیا۔
میں میرے چہرے پر ہلکی سی ہنسی آئی، ایسی ہنسی جس میں خوشی کم اور تھکن زیادہ تھی۔
"دل کی بات؟ لوگ دل کہاں سنتے ہیں؟ لوگ صرف الفاظ سنتے ہیں، احساس نہیں۔”
وہ خاموش ہو گئی۔
میں کرسی پر بیٹھ گئی اور نظریں فرش پر ٹکا دیں۔
"ایک وقت تھا جب میں بھی بہت بولتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتی تھی۔ لوگوں پر اعتبار کرتی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ خلوص اب بھی زندہ ہے، محبت اب بھی سچی ہے اور خواب اب بھی پورے ہو سکتے ہیں۔ لیکن پھر زندگی نے حقیقت کا آئینہ دکھایا اور ایک ایک کر کے سارے بھرم توڑ دیے۔”
"سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔”
اس نے دھیرے سے کہا۔
"ہاں! مگر ہر انسان ٹوٹنے کا ہنر نہیں جانتا۔ کچھ لوگ بکھر کر سنور جاتے ہیں اور کچھ خاموش ہو جاتے ہیں۔ میں شاید انہی لوگوں میں سے ہوں۔”
باہر کہیں دور اذان کی آواز ابھری۔ اس آواز میں ایک عجب سکون تھا مگر میرے اندر کا شور پھر بھی قائم تھا۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
"کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میرے اندر ایک ویران شہر آباد ہے۔ وہاں اداسی کے سنسان راستے ہیں، یادوں کے شکستہ مکان ہیں، اور امید کے بجھے ہوئے چراغ ہیں۔ میں ہر روز ان گلیوں سے گزرتی ہوں مگر کہیں روشنی نہیں ملتی۔”
وہ پہلی بار بےبس دکھائی دی۔
"پھر تم زندہ کیسے ہو؟”
میں نے ایک طویل سانس لی۔
"انسان جینا نہیں سیکھتا، بس وقت کے ساتھ درد برداشت کرنا سیکھ جاتا ہے۔”
خاموشی دوبارہ ہمارے درمیان آ بیٹھی۔ مگر یہ خاموشی اب پہلے جیسی نہیں تھی۔ اس میں میرے دل کی بےشمار چیخیں شامل تھیں۔
"اور یہ شور؟” اس نے دھیمی آواز میں پوچھا؛
"کیا کبھی ختم نہیں ہوگا؟”
میں نے کھڑکی سے باہر پھیلے اندھیرے کو دیکھا۔ رات مزید گہری ہو چکی تھی۔
"کچھ شور کبھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ انسان کے اندر دفن ہو جاتے ہیں۔ پھر وقتاً فوقتاً یادوں کی صورت جاگتے ہیں۔ آنکھوں میں نمی بن کر اترتے ہیں اور دل میں ایک کسک چھوڑ جاتے ہیں۔”
میری آواز بھرا گئی۔
"لوگ سمجھتے ہیں خاموش انسان پُرسکون ہوتا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سب سے زیادہ شور انہی لوگوں کے اندر ہوتا ہے جو کم بولتے ہیں۔”
وہ کچھ نہ کہہ سکی۔ شاید بعض خاموشیوں کا جواب الفاظ میں نہیں ہوتا۔۔۔۔!
سکوت کا شور،تحریر:ایس اے شازم
