بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ماں بیٹی کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ عدالت نے صلح کی بنیاد پر گرفتار پانچوں ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ فریقین کے مابین صلح ہو چکی ہے، اس لیے ملزمان کی ضمانت منظور کی جاتی ہے۔ عدالت نے مدعی کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے ملزمان کو رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔سماعت کے دوران مدعی نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کے بعد فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے صلح ہو چکی ہے اور وہ ملزمان کے خلاف مزید کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ مدعی نے واضح طور پر کہا کہ ملزمان کو بری یا مقدمے سے ڈسچارج کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
عدالت نے مدعی کے بیان اور فریقین کی رضامندی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔ اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ صلح کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے، بشرطیکہ مدعی کو کوئی اعتراض نہ ہو۔
واضح رہے کہ تھانہ بھاٹی گیٹ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر رکھا تھا، جس میں لاپرواہی اور غفلت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ماں بیٹی کی المناک موت پر علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا رہا، جبکہ شہریوں کی جانب سے کھلے مین ہولز کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا۔
