کراچی سانحہ گل پلازہ،انچارچ شناخت ڈیسک سی پی ایل سی عامر حسن کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں مزید انسانی باقیات کو اسپتال لایا گیا ہے، مزید چار بیگ اسپتال لائے گئے ہیں،
انچارچ شناخت ڈیسک سی پی ایل سی کا کہنا ہے کہ اسپتال لائی گئی باقیات کی جانچ کی جارہی ہے، ممکنہ طور پر یہ باقیات چار لوگوں کی ہوسکتی ہے، ممکنہ طور پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 71 ہوگئی،
دوسری جانب ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیئر ریٹائرڈ صبغت اللہ نے سانحہ گل پلازہ کے سرچنگ آپریشن سے متعلق بتایا ہے کہ آج بلڈنگ کی سرچنگ مکمل کریں گے۔ 10 سے 15 فیصد حصہ وہ ہے جہاں نہیں پہنچ سکے تھے۔ آج وہاں بھی پہنچ کر سرچنگ کی جائے گی۔انہوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جس مقام پر آگ لگنی شروع ہوئی تھی وہاں سے لاشیں ملیں گی۔ ڈی جی ریسکیو 1122 نےکہا کہ سانحے کو 7 روز ہوچکے ہیں۔ امید نہیں کہ زندگی یہاں کوئی موجود ہے۔ پچھلے تین دن سے جی پی ایس ریڈار بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ ریڈار کے ذریعے دیکھا گیا کہ کوئی ذندہ موجود ہے یا نہیں۔
دوسری جانب سانحہ گل پلازہ کے بعد انتظامی اداروں کو ہوش آگیا،شہر میں فائر سیفٹی انتظامات پر عملدرآمد کرانے کیلیے اقدامات کئے جانے لگے، گل پلازہ کو مسمار کرنے کے عمل میں کے ایم سی کی معاوںت کیلیے ایس بی سی اے کی 4 ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں، چار ٹیموں میں ایس بی سی اے کے 16 افسران اور ملازمین شامل ہیں،ضلع جنوبی، شرقی اور وسطی میں عمارتوں میں آتشزدگی سے حفاظتی انتظامات کے سروے کیلیے تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،ضلع جنوبی میں سروے اور گل پلازہ کو مسمار کرنے کے عمل کی نگرانی کیلیے ڈائریکٹر کی نگرانی میں چھ رکنی ٹیم کو خصوصی ٹاسک دے دیا، ضلع جنوبی میں چھ رکنی ٹیم میں دو اسٹنٹ ڈائریکٹر ، ایک سنئیر بلڈنگ انسپکٹر اور تین بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ضلع وسطی میں بھی عمارتوں کے سروے کیلیے 7 رکنی ٹیم تشکیل دی گئی، ضلع وسطی میں متعلقہ ٹیم آتشزدگی کے حوالے سے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا جائزہ لے گئی ، ضلع شرقی میں بھی عمارتوں میں آتشزدگی سے واقعات سے نمٹنے کے اقدامات کے سروے کیلیے ٹیم تشکیل دی گئی، ضلع وسطی میں عمارتوں کے سروے کیلیے بنائی ٹیم میں چار اسٹنٹ ڈائریکٹر اور تین بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ضلع شرقی میں عمارتوں کے سروے کیلیے بنائی ٹیم میں دوڈپٹی ڈائریکٹر ، دو اسٹنٹ ڈائریکٹر اور دو بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ٹیمیں عمارتوں میں سے آ گ بجھانے کے آلات , ہنگامہ راستہ فعال ہونے کا جائزہ لے گی، ٹیمیں عمارتوں میں فائر الارم سمیت آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے کیلیے عملہ کی تربیت کا بھی جائزہ لے گی.
