Baaghi TV

تین دہائیاں گزرنے کے باوجود سانحہ سوپور کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر

بھارتی ریاستی تشدد کی المناک داستان سانحۂ سوپور، مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر درج ہے

6 جنوری 1993 وہ سیاہ دن ہے جب سوپور میں نہتے کشمیری شہریوں کو سفاک بھارت نے منظم ریاستی کارروائی کا نشانہ بنایا ،سوپور میں ہونے والی فائرنگ کسی اچانک واقعہ کا نتیجہ نہیں بلکہ بھارتی درندوں کی منظم منصوبہ بند سازش تھی،سانحۂ سوپور کے متاثرین کے مطابق بھارتی فوجیوں نے شہداء کو گھسیٹ کر تین مختلف مقامات پر منتقل کیا اور پھر کراس فائرنگ میں مرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا،متاثرین سانحہ سوپور کا کہنا ہے کہ ہمارا مال بھارتی فوج نے اپنے ٹرکوں میں بھرا اور لوٹ کر موقع سے فرار ہو گئی، متاثرین سانحۂ سوپور کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے تیل سے بھرے ٹینکر سے تیل نکال کر ہمارے گھروں پر چھڑکا اور جان بوجھ کر آگ لگا دی ،بارڈر سیکیورٹی فورس کی اندھا دھند فائرنگ نے ایک مسافر بس سمیت کئی مقامات پر بے گناہ جانیں لے لیں،بھارتی سفاکیت کے باعث سوپور کے بازار، گلیاں اور رہائشی علاقے چند گھنٹوں میں خوف، آگ اور موت کی علامت بن گئے

آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے قوانین نے بھارتی فورسز کو انسانی جانوں کے ساتھ کھلواڑ کی کھلی اجازت دے رکھی تھی،سانحۂ سوپور نے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ مقبوضہ کشمیر میں عسکری موجودگی کشمیری عوام کے تحفظ کیلئے نہیں تھی،متاثرین سانحۂ سوپور نےسرکاری اعداد و شمار کے مطابق 6 جنوری 1993 کو 60 سے زائد افراد کو گولیوں سے مارنے اور زندہ جلانے کا بھی انکشاف کیا،انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعہ کو قتلِ عام قرار دیا، مگر انصاف کا کوئی راستہ نہ کھل سکا،انتہا پسند بھارت کی ریاستی سرپرستی اور عدالتی خاموشی نے ہمیشہ سوپور کے ذمہ داروں کو مکمل استثنا فراہم کیا،تین دہائیاں گزرنے کے باوجود سانحہ سوپور کے متاثرین آج بھی انصاف اور عالمی توجہ کے منتظر ہیں،آج بھی عالمی برادری بھارت کےظلم و جبر پر خاموش ہے لیکن پاکستان مسلسل اپنے کشمیری بھائیوں پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھاتا رہے گا

More posts