امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور خطے میں بڑھتی فوجی کشیدگی کے باعث فضائی اور بحری راستوں میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال میں سعودی عرب سفر اور لاجسٹکس کے لیے ایک اہم عبوری مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد خلیجی عرب ریاستوں کو تقریباً دو ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن کا ہدف امریکی سفارت خانے، فوجی اڈے، تیل کی اہم تنصیبات، بندرگاہیں، ہوائی اڈے، ہوٹلز اور رہائشی و دفتری عمارتیں تھیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب نے کئی خلیجی ایئر لائنز کو اپنے ایئرپورٹس اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے جس کے باعث وہ متنازع علاقوں سے بچتے ہوئے اپنی پروازیں جاری رکھ سکیں۔
عراق ایئر ویز کو بھی شمالی سعودی عرب کے ارار ہوائی اڈے کے ذریعے پروازیں چلانے کی اجازت دی گئی جس پر عراقی حکومت نے سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔
حالیہ دنوں میں سعودی ایئرپورٹس پر فضائی ٹریفک میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ متعدد ایئر لائنز نے خطرناک فضائی راستوں سے بچنے کے لیے اپنی پروازوں کا رخ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا ہے۔ اتوار کے روز گلف ایئر نے بھی اعلان کیا کہ وہ کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے اپنے آپریشنز میں اضافہ کر رہی ہے۔
ایران جنگ کے دوران سعودی عرب خلیج کا اہم فضائی اور لاجسٹک مرکز بن گیا
