Baaghi TV

پاکستان میں ویکسین سازی میں سعودی تعاون کی راہیں ہموار

‎پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے شعبے میں سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی وفد کی آمد کے بعد دوطرفہ تعاون کی اہم پیش رفت کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ وفد کی قیادت منسٹر آف انڈسٹری کے سینیئر ایڈوائزر نزار الحریری کر رہے ہیں، جنہوں نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وزارت صحت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس کیا۔
‎اجلاس میں پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری، مستقبل کی طلب، دستیاب انفراسٹرکچر اور متعلقہ صلاحیتوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت صحت کے ماتحت اداروں کے سربراہان، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر قومی ادارہ صحت نے بھی اجلاس میں بریفنگ دی۔
‎وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 24 کروڑ آبادی ہے اور ہر سال 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، جو ہر سال نیوزی لینڈ جتنی آبادی کے برابر اضافہ ہے۔ حکومت 13 اقسام کی ویکسین شہریوں کو مفت فراہم کر رہی ہے، مگر یہ ویکسین ملک میں تیار نہیں ہوتیں اور عالمی اداروں سے درآمد کی جاتی ہیں، جس پر سالانہ تقریباً 400 ملین امریکی ڈالر لاگت آتی ہے۔
‎وزیر صحت نے کہا کہ ویکسین کی لاگت کا 49 فیصد بین الاقوامی شراکت دار ادا کرتے ہیں اور 51 فیصد حکومت برداشت کرتی ہے، تاہم 2031 کے بعد بین الاقوامی امداد ختم ہو جائے گی۔ اگر مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو سالانہ لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو ملکی معیشت پر بڑا بوجھ ڈالے گی۔
‎مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وزارت صحت نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں اور پاکستان میں تیرہ بیماریوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے عملی پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان صحت کے شعبے میں اشتراک خطے کے لیے مثال بنے گا اور ویکسین سازی میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

More posts