نایاب اور اہم معدنیات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ گرین لینڈ سے متعلق ایک ممکنہ معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس میں نایاب زمینی معدنیات (Rare Earth Minerals) کے حقوق بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ اہم اور نایاب معدنیات جدید دنیا کی کلیدی ٹیکنالوجیز کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں، جن میں صاف توانائی کی منتقلی، مصنوعی ذہانت (AI)، الیکٹرک گاڑیاں، ونڈ ٹربائنز اور جدید فوجی ہتھیار شامل ہیں۔ تاہم ان معدنیات کی پیداوار اور ریفائننگ پر اس وقت چین کا غلبہ ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق چین دنیا کی 90 فیصد سے زائد ریفائن شدہ نایاب معدنیات اور 60 فیصد سے زیادہ کان کنی کی پیداوار پر کنٹرول رکھتا ہے۔
ریاض میں منعقدہ فیچر منرلز فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے SAFE (Securing America’s Future Energy) کے منرلز سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ابیگیل ہنٹر نے کہا کہ چین امریکا سے “کئی دہائیاں آگے” ہے، کیونکہ اس نے طویل المدتی حکمتِ عملی، ریاستی سرپرستی، نجی شعبے کے ساتھ ہم آہنگی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ذریعے یہ برتری حاصل کی۔
اسی تناظر میں سعودی عرب تیزی سے اپنے معدنی شعبے کو وسعت دے رہا ہے، تاکہ تیل پر انحصار کم کیا جا سکے اور عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ میں اضافہ ہو۔ سعودی حکام کا دعویٰ ہے کہ مملکت کے پاس تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، جن میں سونا، زنک، تانبہ، لیتھیم اور نایاب معدنیات جیسے ڈسپروسیم، ٹربیئم، نیوڈیمیم اور پریسیوڈیم شامل ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔S&P Global کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان سعودی عرب نے معدنی تلاش (Exploratory Mining) کے بجٹ میں 595 فیصد اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ سرمایہ کاری کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ معدنی ممالک کے مقابلے میں ابھی کم ہے، تاہم نئے کان کنی لائسنسز کے اجرا میں نمایاں تیزی آئی ہے، جن میں ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق کان کنی صرف معدنیات نکالنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طویل المدتی عمل ہے۔ ابیگیل ہنٹر کے مطابق، “پروسیسنگ پلانٹ بنانے میں تین سے پانچ سال لگ جاتے ہیں، جبکہ بعض ممالک میں یہ عمل 29 سال تک بھی جا سکتا ہے۔”اسی لیے سعودی حکومت سرخ فیتے (Red Tape) میں کمی، ٹیکس مراعات اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے ذریعے اس شعبے میں تیزی لانا چاہتی ہے۔ فیچر منرلز فورم میں سعودی سرکاری کان کنی کمپنی معادن (Maaden) نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ دس برسوں میں 110 ارب ڈالر دھاتوں اور کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے گی۔ معادن کے سی ای او باب وِلٹ نے کہا، “ہم اتنے عاجز ہیں کہ جانتے ہیں یہ کام اکیلے نہیں ہو سکتا، اسی لیے عالمی شراکت داری ضروری ہے۔”
اگرچہ سعودی معدنیات کی مجموعی مالیت تیل کے ذخائر کے مقابلے میں کم ہے، تاہم ویژن 2030 کے تحت معیشت کو متنوع بنانا مملکت کا بڑا ہدف ہے، جس میں کان کنی کو کلیدی ستون قرار دیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں صرف معدنیات نکالنا ہی نہیں بلکہ مکمل سپلائی چین اور ملکی صنعتوں، خاص طور پر الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ، کو فروغ دینا شامل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنی مضبوط انفرااسٹرکچر کی بدولت دوسرے ممالک، خصوصاً افریقی ریاستوں سے نکالی گئی معدنیات کی ریفائننگ کے لیے ایک علاقائی مرکز بن سکتا ہے۔
سعودی عرب کی اس حکمتِ عملی نے امریکا کی دلچسپی بھی بڑھا دی ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ چین نے گزشتہ برس نایاب معدنیات کی برآمدات پر سخت کنٹرول عائد کیا تھا، جن میں کئی معدنیات فوجی استعمال کی حامل ہیں۔گزشتہ نومبر واشنگٹن میں ہونے والے دورے کے دوران سعودی عرب نے امریکا میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر تک سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس میں معدنی شعبے میں دوطرفہ تعاون بھی شامل تھا۔ امریکی کمپنی MP Materials نے اعلان کیا کہ وہ معادن اور امریکی محکمہ دفاع کے اشتراک سے سعودی عرب میں ایک نئی ریفائنری قائم کرے گی۔
کریٹیکل منرلز انسٹی ٹیوٹ کی شریک چیئر میلسا سینڈرسن کے مطابق سعودی عرب کی سب سے بڑی طاقت سستی اور قابلِ اعتماد توانائی ہے، جس کے ذریعے وہ چین کا کم لاگت اور نسبتاً ماحول دوست متبادل بن سکتا ہے۔ تاہم ماحولیاتی خدشات، مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام اور افریقی ممالک کے ساتھ پیچیدہ سفارتی تعلقات چیلنج بن سکتے ہیں۔سینڈرسن کے مطابق، “یہ حکمتِ عملی فوری منافع کے لیے نہیں بلکہ طویل المدتی طاقت، اثر و رسوخ اور عالمی سیاست میں مرکزی کردار حاصل کرنے کے لیے ہے۔”ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبے کامیاب ہوئے تو سعودی عرب نہ صرف توانائی بلکہ اہم معدنیات کی عالمی سیاست میں بھی ایک فیصلہ کن کھلاڑی بن کر ابھر سکتا ہے
