سپریم کورٹ نے 4 سالہ سوتیلے بچے کے قتل کی ملزمہ کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔ سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل تھے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچے کی موت قدرتی نہیں تھی۔ جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ یہ تحقیقات سے ہی معلوم ہوگا کہ آیا بچے کو ماں نے مارا یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقدمے کے نصف پہلو مدعی کی طرف سے اور نصف پولیس کی جانب سے متاثر ہو رہا ہے۔
ملزمہ کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ان کے خلاف نہ کوئی گواہ موجود ہے اور نہ ہی کوئی مضبوط ثبوت دستیاب ہے، اور یہ کہ خاتون کو جیل میں ایک بچے کی ولادت بھی ہوئی ہے۔
4 سالہ سوتیلے بچے کے قتل کی ملزمہ کی ضمانت منظور
