Baaghi TV

سکولوں کے باہر طالبات کو لینے والوں کے مسائل تحریر طارق جاوید

ابھی میٹرک کے امتحانات جاری ہیں طالبات کے لیے اپنے سکول کے علاوہ دوسری جگہ سینٹر بناے گے ہیں وہاں جس دن پیپر ہونا ہوتا ہے والدین چھوڑ کر آتے ہیں
کچھ بچیوں کے بھائی یا والد نہیں ہوتے وہ رکشوں کی مدد ایک بار چھوڑ کر آتے ہیں پھر واپس لے کر آتے ہیں
پہلی بات تو یہ ہے طالبات کے لئے ان کا سکول ہی سینٹر ہونا چاہیے یا پھر کوئی نزدیک سینٹر ہو

سکول کے اندر کی صورت حال ایک الگ مسئلہ ہو گا
لیکن سب سے بڑا مسئلہ بچیوں کو جو لینے کے لیے جاتے ہیں ان کے لیے اتنی شدید گرمی میں وہاں سکول کے باہر کھڑے ہونے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی نہ کوئی جگہ مخصوص کی جاتی ہے
سکولوں کے گارڈز ٹریفک جام نہ ہو کسی کی موٹر-سائیکل کو کھڑا کرنے نہیں دیتے
جو شخص وہاں بچیوں کو لینے کے لئے گیا ہوتا ھے وہ دھوپ میں کھڑا کھڑا خود ہی بیمار ہو جاتا ہے نہ وہاں کوئی پانی پینے کا سسٹم ہوتا ہے نہ وہاں سایہ کی کوئی جگہ جہاں کھڑا ہو کر انتظار کیا جائے بعض اوقات آدھا گھنٹہ رکنا پڑتا ہے
اور رش ہر طرف ہوتا ھے سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے
میں نے یہ تین چار سکولوں میں دیکھا ھے یہ تکلیف برداشت بھی کی ھے
جب کہ اس پر کوئی خاص خرچہ بھی نہیں ہے بدقسمتی یہ ہے کہ ایسی باتیں نہ میڈیا دیکھاتا ھے نہ کوئی ایسے مسائل کو بہت بڑا مس سمجھتا ہے
اسی طرح تھانوں میں چلے جائیں وہاں گورنمنٹ کے ملازمین پرسکون طریقے سے اندر بیٹھے ہوتے ہیں ایس ایچ او صاحب نے تھانے میں گیارہ بجے آنا ہوتا ہے عام عوام زللیل ہوتی ہے گھنٹوں دھوپ میں کھڑے رہنا پڑتا ہے چار چار گھنٹے انتظار کے بعد بعض اوقات ایسا ہوتا ہے اندر سے پیغام آتا ہے آج ایسی ایچ صاحب کی ڈی ایس پی سے میٹنگ ھے
کل آنا

میری زمدار افراد سے التماس ہے کہ ان چھوٹے مسائل پر توجہ دیں
جن کاموں میں کمشن ملتا ہے وہ کام اربوں روپے والے منٹوں میں شروع ہو جاتے ہیں
جو ہزاروں والے جلدی کے کام ہیں ان پر کوئی توجہ دیتا نہیں
سب سے زیادہ زمداری گورمنٹ کی ھے
جتنے سرکاری محکمے ہیں ان کی تنخواہ پنشن سب کچھ اپنے وقت پر بڑھتا ہے لیکن جو ان کی زمداری ھے عوام کو سہولت دینا وہ احسان سمجھتے ہیں

🙏🙏🙏مہربانی ہو گی ان مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے
شکریہ 🌹

ٹیوٹر اکاونٹ
@TariqJaved_

More posts