مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہوتے ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی میزائل حملے کے بعد وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں ہنگامی امدادی ٹیمیں سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے مطابق ایرانی میزائلوں کے ٹکڑے سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں گرنے کے بعد امدادی کارکن متاثرہ مقامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہفتہ کی صبح جاری کی گئی تصاویر میں شہر رِشون لیژیون میں پارکنگ ایریا میں اینٹوں اور ملبے کے ڈھیر جبکہ ایک گاڑی کو نقصان پہنچنے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کچھ دیر قبل ایران کی جانب سے اسرائیلی حدود کی طرف میزائل داغے گئے، جس کے بعد فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کو متحرک کیا گیا۔
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی اس تنازع کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی منڈیوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ایران کو عارضی اجازت دی ہے کہ وہ تقریباً 14 کروڑ بیرل خام تیل فروخت کر سکے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ مقدار عالمی طلب کو تقریباً ڈیڑھ دن تک پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔
امریکی صدر نے عندیہ دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کو ممکنہ طور پر کم کیا جا سکتا ہے، تاہم ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں عسکری سرگرمیوں میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔ اسی دوران ہزاروں امریکی میرینز اور بحری اہلکار مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔
خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ خلیجی ممالک نے رات بھر میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایران نے بحرِ ہند میں واقع مشترکہ امریکی برطانوی فوجی اڈے ڈیگو گارشیا کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم میزائل ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
ادھر ایران نے متحدہ عرب امارات کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر خلیج میں ایرانی جزائر پر حملے جاری رہے تو راس الخیمہ کی بندرگاہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ کویت اور سعودی عرب نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کی تصدیق کی ہے۔اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مزید میزائل داغے گئے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر رات گئے حملے کیے۔
