بلوچستان و خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز کی دہشت گردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں
ضلع کوہلو، بلوچستان میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی کے دوران پانچ مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاعات پر کیا گیا۔ ہلاک افراد مبینہ طور پر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے، تاہم ان کی شناخت اور تنظیمی وابستگی سے متعلق مزید تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور خطرات کے خاتمے کے لیے یہ کارروائی کی۔ تحقیقات جاری ہیں اور علاقے کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پشین ضلع میں سکیورٹی فورسز نے ایک ممکنہ ہلاکت خیز تخریبی کارروائی ناکام بنا دی، جب موٹر سائیکل میں نصب دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ سرخواب چوک پر پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل عوامی مقام پر کھڑی کی تھی۔ مقامی افراد نے مشتبہ موٹر سائیکل کی اطلاع دی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور عوامی آمد و رفت محدود کر دی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر بم کو بحفاظت ناکارہ بنا دیا۔
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے چار کمانڈروں نے حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور تنظیم کی سرگرمیوں اور مبینہ غیر ملکی سرپرستی سے متعلق اہم انکشافات کیے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ افراد گزشتہ دو برس سے بی ایل اے سے وابستہ تھے اور کمانڈ سطح پر کام کر رہے تھے۔ ایک ریکارڈ شدہ بیان میں انہوں نے کہا کہ انہیں بلوچ حقوق کے نام پر گمراہ کیا گیا، تاہم بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ تنظیم بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تنظیم بینک ڈکیتیوں اور دیگر جرائم میں ملوث تھی۔
اسلام آباد پولیس نے بڑے سکیورٹی آپریشن کے دوران 41 افراد کو حراست میں لیا، جن میں چار افغان شہری بھی شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات برآمد کی گئیں۔ پولیس نے 177 افراد، 66 گھروں، 35 موٹر سائیکلوں اور 15 گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ناقص دستاویزات پر 12 موٹر سائیکلیں اور 4 گاڑیاں ضبط کر لی گئیں۔ چار افغان شہریوں کو تفتیش کے لیے تحویل میں لیا گیا۔
پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر مرسی ہسپتال کے قریب فائرنگ کے واقعے میں تین افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔ جاں بحق افراد کی شناخت صہیب خان، نعیم گل اور امجد کے نام سے ہوئی۔ زخمی شخص فراز کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
جنوبی وزیرستان کے علاقے اگزی کس میں انٹیلی جنس معلومات پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی، جہاں دہشت گرد ایک مسجد کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ مسجد کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے فورسز نے محتاط کارروائی کی اور دہشت گردوں کو مسجد سے باہر نشانہ بنایا۔ کارروائی میں تمام دہشت گرد مارے گئے جبکہ مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
لکی مروت کے علاقے تخت خیل میں سکیورٹی آپریشن کے دوران مارا جانے والا دہشت گرد افغان شہری نکلا۔ ذرائع کے مطابق ہلاک شخص کی شناخت ولی عثمان کے نام سے ہوئی جو افغانستان کے صوبہ لوگر کا رہائشی تھا۔ کارروائی میں کمانڈر مولوی نصراللہ وزیر عرف مولوی نصرت بھی مارا گیا۔ دونوں سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔
بنوں کے تھانہ ہوید کی حدود میں پولیس اور مقامی امن کمیٹی کے ارکان نے مشترکہ گشت تیز کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس اقدام کا مقصد مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔
سوات کے علاقے سنگوٹہ میں ایک پولیس کانسٹیبل کو اس کے گھر کے قریب فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق کانسٹیبل حماد علی، جو تیمرگرہ میں تعینات تھا، چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔ نامعلوم افراد نے اسے نشانہ بنایا۔ پولیس نے لاش کو اسپتال منتقل کر کے تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
