سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں کرپٹوکرنسی سے متعلق مجوزہ قانون پر شدید اختلافات سامنے آگئے، جہاں ارکان نے حکومتی تیاری اور قانونی وضاحت پر سوالات اٹھا دیے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر رانا محمود الحسن نے کی۔
اجلاس کے دوران سیکریٹری اور وزیر قانون کی عدم موجودگی پر کمیٹی ارکان نے برہمی کا اظہار کیا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کو محض ربڑ اسٹیمپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اہم قانون سازی پر مناسب بریفنگ نہیں دی جا رہی۔
کرپٹو پر سخت تنقید
سینیٹر سعدیہ عباسی نے اجلاس میں کہا کہ کرپٹوکرنسی دراصل سٹے بازی ہے اور اس حوالے سے عوام اور پالیسی سازوں دونوں کے ذہنوں میں شدید ابہام موجود ہے۔ ان کے مطابق کرپٹو زیادہ تر امیر طبقے کا مشغلہ بن چکا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کی واضح ریگولیشن سامنے نہیں آ سکی۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کرپٹو کو بڑی حد تک عوام کی چوائس پر چھوڑ رکھا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا ابھی اس معاملے پر متفق نہیں۔
قانونی وضاحت پر سوالات
سینیٹر شیری رحمان نے سوال اٹھایا کہ وزیر قانون کی غیر موجودگی میں بل سے متعلق تکنیکی اور قانونی سوالات کے جوابات کون دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرے ایریا میں رہتے ہوئے ٹیکس نظام مؤثر نہیں بنایا جا سکتا۔
سعدیہ عباسی نے مزید کہا کہ انہیں مجوزہ بل کی کاپی تک فراہم نہیں کی گئی، اس لیے وہ بغیر مطالعہ کیے قانون سازی کی حمایت نہیں کر سکتیں۔
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی ارکان نے حکومت پر زور دیا کہ کرپٹوکرنسی کے حوالے سے واضح اور جامع ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا جائے تاکہ قانونی، مالی اور ٹیکس سے متعلق ابہام ختم کیا جا سکے۔
سینیٹ کمیٹی میں کرپٹوکرنسی بل پر اختلاف، سعدیہ عباسی نے کرپٹو کو سٹے بازی قرار دے دیا
