سینیٹ نے ملک میں تعلیمی نصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم قانون سازی کرتے ہوئے تولیدی صحت کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنانے کا بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے
اس بل کے تحت 14 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو مرحلہ وار اور عمر کے مطابق تولیدی صحت سے متعلق تعلیم فراہم کی جائے گی۔بل کے مطابق تولیدی صحت کی تعلیم کا مقصد صرف حیاتیاتی معلومات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں جسمانی، ذہنی اور سماجی بہبود سے متعلق جامع آگاہی شامل کی جائے گی۔ اس نصاب کے ذریعے طلبہ کو صحت مند طرزِ زندگی، ذاتی صفائی، ذہنی توازن، سماجی ذمہ داریوں اور باہمی احترام جیسے اہم موضوعات سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ عملی زندگی میں بہتر فیصلے کر سکیں۔
قانون سازی میں والدین کے کردار کو بھی مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ تولیدی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی تعلیم یا رہنمائی دینے سے قبل والدین یا سرپرست کی تحریری رضا مندی لازمی ہوگی۔ اس شق کا مقصد والدین کے تحفظات کو دور کرنا اور تعلیمی عمل میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔بل کے متن کے مطابق نصابی کتب کی تیاری کے دوران متعلقہ اتھارٹیز اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ مواد طلبہ کی عمر، ذہنی سطح اور سماجی اقدار کے مطابق ہو۔ نصاب کو اس انداز میں ترتیب دیا جائے گا کہ حساس موضوعات کو محتاط، سادہ اور تعلیمی اصولوں کے تحت پیش کیا جائے، تاکہ طلبہ پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے۔
ایوان میں بل پر بحث کے دوران حامی ارکان کا کہنا تھا کہ تولیدی صحت سے متعلق درست اور بروقت آگاہی نوجوانوں کو صحت کے مسائل، ذہنی دباؤ اور سماجی غلط فہمیوں سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کے ذریعے شعور اجاگر کرنا معاشرے کی مجموعی صحت اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔دوسری جانب بعض ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ نصاب کی تیاری اور نفاذ کے دوران معاشرتی اقدار، ثقافتی حساسیت اور مذہبی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ کسی طبقے کے تحفظات جنم نہ لیں۔
