سربیا کے صدر نے کہا کہ کروشیا، البانیہ اور کوسوو مبینہ طور پر سربیا پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
صدر ووچیچ نے ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ ممالک موجودہ عالمی حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور ان کی امید ہے کہ اگر روس اور یورپ کے درمیان جاری کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والا انتشار ان ممالک کو سربیا کے خلاف کارروائی کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی بعض ممالک کے لیے ایسا ماحول پیدا کر سکتی ہے جس میں وہ اپنے علاقائی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
صدر ووچیچ نے اس موقع پر یہ بھی دعویٰ کیا کہ سربیا کے پاس جدید انتہائی تیز رفتار بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جو ملک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ سربیا اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سربیا کا نیٹومیں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے
