امریکہ کی کئی ریاستیں شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہیں، جس سے معمولاتِ زندگی متاثر ہو گئے ہیں اور کم از کم 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پیر کو مزید برف باری کے بعد لاکھوں امریکیوں نے نقطہ انجماد سے نیچے درجہ حرارت میں بجلی کے بغیر رات گزاری۔ تقریباً ساڑھے چھ لاکھ گھروں کو بجلی کی فراہمی معطل رہی۔
جمعے سے اب تک برفانی طوفان کے باعث 20 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جس میں گزشتہ روز 5100 اور اتوار کو 11 ہزار سے زیادہ پروازیں شامل تھیں۔
خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق امریکہ کے مختلف حصوں میں مرنے والوں میں نوعمر نوجوان، بزرگ اور خواتین شامل ہیں، اور نیویارک شہر میں 8 افراد ہلاک ہوئے۔
ریاست آرکنسا سے نیوانگلینڈ تک تقریباً 2100 کلومیٹر کے خطے میں کئی کئی انچ برف پڑی، کچھ علاقوں میں ایک فٹ جبکہ بعض میں ڈیڑھ فٹ تک برف جمع ہوئی۔ درجہ حرارت منفی 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور کئی اسکول بند رہے۔
امریکی موسمیات کے محکمے نے کہا کہ سردی میں کمی کا فی الحال کوئی امکان نہیں، بلکہ قطبِ شمالی کی سرد ہواؤں کا نیا سلسلہ آنے کی پیش گوئی ہے، جس سے مشرقی ساحلی علاقوں میں مزید برف باری کا امکان ہے۔
امریکہ: شدید برفانی طوفان، 30 ہلاکتیں اور لاکھوں افراد بجلی کے محروم
