سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے لیے نمبر سسٹم ختم کرکے گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا اطلاق مرحلہ وار پورے صوبے میں کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق نئے گریڈنگ سسٹم کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیر جامعات سندھ اسماعیل راہو نے بتایا کہ یہ فیصلہ انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیٹی (آئی بی سی سی) کی وفاقی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے اور نیا نظام بین الاقوامی تعلیمی معیار سے ہم آہنگ ہوگا۔
ان کے مطابق گریڈنگ سسٹم کا آغاز 2026 میں نویں اور گیارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات سے ہوگا، جبکہ 2027 میں دہم اور بارہویں جماعت کے امتحانات میں بھی اس نظام کا اطلاق کر دیا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت طلبہ کی کارکردگی نمبرز کے بجائے گریڈز کی صورت میں ظاہر کی جائے گی۔ گریڈز کی تقسیم اس طرح ہوگی:
A++ گریڈ: 96 سے 100 فیصد
A+ گریڈ: 91 سے 95 فیصد
A گریڈ: 86 سے 90 فیصد
B++ گریڈ: 81 سے 85 فیصد
B+ گریڈ: 76 سے 80 فیصد
B گریڈ: 71 سے 75 فیصد
C+ گریڈ: 61 سے 70 فیصد
C گریڈ: 51 سے 60 فیصد
D گریڈ: 40 سے 50 فیصد (ابھرتی کارکردگی)
U گریڈ: 40 فیصد سے کم (ناکام تصور)
وزیر جامعات نے واضح کیا کہ پاس ہونے کے لیے کم از کم 40 فیصد نمبرز لازمی ہوں گے، اور کسی بھی پرچے میں 40 فیصد سے کم نمبرز حاصل کرنے والے طالب علم کو فیل قرار دیا جائے گا۔
اسماعیل راہو کے مطابق نئے گریڈنگ سسٹم کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں یکسانیت پیدا کرنا ہے، جبکہ تمام بورڈز میں مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے سسٹم متعارف کرانے پر بھی غور کیا جائے گا۔
سندھ میں میٹرک اور انٹر کےلئے گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کی منظوری
