Baaghi TV

سندھ حکومت نااہل،کراچی وفاق کے کنٹرول میں لیا جائے،مصطفیٰ کمال

Mustafa Kamal

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر کراچی کو فوری طور پر وفاق کے کنٹرول میں لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی جیسے ملک کے سب سے بڑے اور معاشی حب شہر کو ایک نااہل صوبائی حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وفاق کے پاس آئینی اختیار موجود ہے اور وہ آرٹیکل 148 کے تحت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی کو اپنے کنٹرول میں لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے، یہاں کی بدانتظامی کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے، اس لیے فوری اور ٹھوس فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔انہوں نے گل پلازا سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، لوگ شہید ہوئے، اور یہ محض حادثہ نہیں بلکہ سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے گل پلازا کی کارکردگی اور ذمہ داران کی غفلت کو ظلم کہا اور آئندہ بھی ظلم کو ظلم کہتے رہیں گے۔ اگر سچ بولنے پر یہی رویہ اختیار کیا جائے گا تو وہ ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ کراچی کو سندھ حکومت کے چنگل سے آزاد کرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے حالیہ اقدامات نے خود ایم کیو ایم کے موقف کی تائید کر دی ہے کہ یہ حکومت نہ صرف ناکام ہوچکی ہے بلکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں بھی بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ان سے خود بھی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، تاہم انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ سیکیورٹی واپس لے کر ہمیں ڈرایا جا سکتا ہے، لیکن وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کراچی پر حکمرانی کرے اور ایسے اقدامات کے ذریعے ایم کیو ایم کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جئے سندھ کے عناصر کھلے عام شاہراہوں پر کھڑے ہو کر پاکستان توڑنے کے نعرے لگاتے ہیں، اور سندھ حکومت انہیں سیکیورٹی فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل نہ صرف افسوسناک بلکہ ریاست کے لیے خطرناک ہے اور ایسے اقدامات سے ملک کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وفاقی حکومت کو باقاعدہ خط بھی لکھا جا چکا ہے اور وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں بھی یہ مؤقف مسلسل پیش کیا جا رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پوری وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے ان کے مؤقف کو سن رہے ہیں اور حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہیں۔

More posts