سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال اور پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر سندھ حکومت نے فوری اور عملی اقدامات کیے ہیں۔ صدرِ مملکت کی مشاورت کے بعد غریب کسانوں کے لیے بڑا ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جس کے تحت 25 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے دیے جا رہے ہیں، اور یہ عمل بینظیر ہاری کارڈ کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیزی سے جاری ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اسی طرح موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر رجسٹرڈ بائیک پر 2000 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ صوبے میں 67 لاکھ سے زائد موٹر سائیکل رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ٹرانسفر فیس مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ عوامی سہولت کے لیے ایکسائز دفاتر کو ہفتے کے ساتوں دن صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک کھلا رکھا گیا ہے۔سندھ واحد صوبہ ہے جو سرکاری ٹرانسپورٹ ساتھ ساتھ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کو بھی سبسڈی فراہم کر رہا ہے تاکہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ ایکسائز ایپ کو عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی، جہاں پریس کانفرنس کے دوران ہی 1500 رجسٹریشنز ہوئیں، جبکہ ایک ہی دن میں 15,000 سے زائد افراد نے اندراج کروایا، اور ہزاروں شہریوں کو ادائیگیاں بھی موصول ہو چکی ہیں۔مزید برآں، منشیات کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں 500 کلو سے زائد آئس (مالیت تقریباً 5 ارب روپے) ضبط کی گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سندھ کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات جاری ہیں۔یہ تمام اقدامات عوامی ریلیف، سہولت اور ایک بہتر، محفوظ اور خوشحال سندھ کی جانب واضح پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔
