آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ہنی ٹریپ کے ذریعے لوگوں کو جھانسہ دےکر کچے کے علاقوں میں بلایا جاتا تھا اور اغواء کر لیا جاتا تھا، ہم نے عہد کیا کہ کچے کے علاقے میں ریاستی رٹ کو بحال کرنا ہے،ایک ماہ میں 113 مقابلے ہوئے، 27 ڈاکو مارے گئے۔
سندھ پولیس نے کچے کے علاقے میں بڑا آپریشن لانچ کردیا۔ آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ آپریشن کا نام "نجات مہران” رکھا گیا ہے۔آئی جی پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس نے اندرون سندھ کچے میں بڑا آپریشن لانچ کردیا، جس کا نام "نجات مہران” رکھا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کچے میں اغواء برائے تاوان کی وارداتیں عام تھیں، کچے میں دریا کے دونوں جانب جنگل ہے۔ تاوان کی رقم سے اسلحہ خریدا گیا، پولیس کی کوتاہی تھی کہ ڈاکو وہاں آباد ہوئے، یہ سلسلہ منظم جرائم بن گیا، ڈاکوؤں کے پاس پولیس سے بہتر اسلحہ تھا، پولیس نے اس کے باوجود بہت کوشش کی، آج ڈاکو مارے بھی جا رہے ہیں اور سرینڈر بھی کر رہے ہیں،جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے، کراچی میں جرائم کو کنٹرول کیا گیا، شہر میں نو گو ایریا تھا جس کو ختم کیا گیا، بدقسمتی سے چند سالوں میں کچے میں پولیس اور اسٹیٹ کی رٹ کمزور ہوئی، ماضی میں وہ وقت بھی آیا کہ 100 مغوی کچے میں موجود تھے، لالچ کی وجہ سےکچے میں اغواء برائے تاوان کے گھناؤنے کام نے مزید جڑیں پکڑیں، ڈاکوؤں نے جدید اور مہلک اسلحہ جمع کیا ہوا تھا، کچےکا علاقے ایک بڑا مسئلہ تھا، اغوا برائے تاوان کے کیسز بڑھ گئے تھے، سستی چیزیں کی لالچ دے کر یا خاتون کی آواز میں بات کر کے لوگوں کو بلوایا جاتا اور اغواء کر لیا جاتا، کے پی، بلوچستان اور پنجاب سے بھی لوگوں کو بلوا کر اغواء کیا جاتا تھا، سرکاری زمینوں پر قبضہ کر کے اسے استعمال کیا جاتا تھا۔
جاوید عالم اوڈھو کا مزید کہنا تھا کہ کہ آئی جی بننے کے بعد عزم کیا کہ کچے سے ڈاکوؤں کے قبضے کو ختم کرنا ہے، سندھ پولیس بہترین فورس ہے، وزیرِ اعلیٰ اور کابینہ کی سپورٹ حاصل ہے۔
