صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، لیکن جب یہی ستون حقائق کو مسخ کرنے لگے تو اس پر اعتبار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں سکائی نیوز (Sky News) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ نے دنیا بھر کے تجزیہ کاروں اور مبصرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
سکائی نیوز اور ان کی اینکر یلدا حکیم نے ایک ایسی خبر نشر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ افغانستان کی عسکری قیادت پاکستان کے اندر فضائی حملے کر رہی ہے۔ یہ خبر نہ صرف عسکری حقائق کے برعکس ہے بلکہ منطقی اعتبار سے بھی مضحکہ خیز ہے۔ سینیئر صحافی مبشر لقمان نے اس رپورٹ کو سرے سے "جھوٹا اور من گھڑت” قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا سوال بالکل جائز ہے: کیا یہ اینکرز سچائی پر مبنی خبریں دے رہے ہیں یا کسی خاص قسم کے نشے میں دھت ہو کر من مانی رپورٹنگ کر رہے ہیں؟
مبشر لقمان نے اس رپورٹنگ کے پیچھے یلدا حکیم کے ماضی اور ان کی ذاتی وابستگیوں پر بھی سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وہی پاکستان ہے جس نے یلدا حکیم اور ان کے خاندان کو برسوں پناہ دی، انہیں تعلیم دلوائی، اور ان کی پرورش میں اہم کردار ادا کیا۔
مبشر لقمان کے مطابق، کچھ لوگ اس ملک کا نمک کھا کر اسی کے خلاف زہر اگلتے ہیں جس نے انہیں پناہ دی۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ رویہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک سوچ کا عکاس ہے جو اپنے محسنوں کو بھلانے اور ان کے خلاف سازش کرنے میں عار محسوس نہیں کرتی۔پیشہ ورانہ غیر جانبداری: جب ایک صحافی اپنی ذاتی رنجشوں یا تعصبات کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر حاوی کر لیتا ہے، تو وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر اتر آتا ہے۔ سکائی نیوز کی یہ رپورٹ اسی اخلاقی پستی کی ایک مثال ہے۔
سب سے زیادہ قابلِ اعتراض اور مزاحیہ پہلو اس رپورٹ کا یہ ہے کہ اس میں "افغان فضائیہ” کے پاکستان پر حملوں کی بات کی گئی ہے۔ عسکری امور پر معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ یہ دعویٰ کتنا بے بنیاد ہے۔افغانستان کے پاس کون سی ایئر فورس ہے؟ سکائی نیوز اس کا جواب نہیں دے سکتا
