وفاقی حکومت نے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ اس حوالے سے مکمل پلان تیار کر لیا گیا ہے اور اس کا باضابطہ اعلان کل متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق بازار رات ساڑھے 9 بجے بند کیے جائیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک محدود رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ شادی تقریبات میں ون ڈش اور زیادہ سے زیادہ 200 افراد کی اجازت ہوگی۔
حکومت کی جانب سے توانائی اور فیول کی بچت کے لیے ہائبرڈ ورکنگ پالیسی بھی متعارف کرانے کی تیاری کی گئی ہے، جسے ابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے نافذ کیا جائے گا۔
سرکاری دفاتر میں ہفتے کے تین دن حاضری اور دو دن آن لائن کام ہوگا جبکہ سروسز دفاتر میں چار دن دفتر اور دو دن آن لائن کام کرنے کا شیڈول تجویز کیا گیا ہے۔ دفاتر میں 50 فیصد اسٹاف روٹیشن سسٹم کے تحت کام کرے گا۔
آن لائن حاضری کے لیے باقاعدہ مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے گا اور ہر افسر کے لیے کم از کم 65 فیصد حاضری لازمی قرار دی جائے گی۔ ہفتہ وار آڈٹ بھی لازم ہوگا۔
پرائیویٹ دفاتر کو بھی 50 فیصد آن لائن ورکنگ اپنانے کی ہدایت دی جائے گی تاکہ آمدورفت اور بجلی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
گاڑیوں کے استعمال پر بھی سخت پابندیاں عائد کرنے کی تجویز ہے، جس کے تحت سرکاری گاڑیوں کا نجی استعمال ممنوع ہوگا اور خلاف ورزی پر گاڑی ضبطی اور فیول ریکوری جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔
توانائی بچت کے تحت صبح 10:30 بجے سے پہلے اے سی کے استعمال پر پابندی ہوگی جبکہ 60 دن کے اندر 50 فیصد دفاتر کو سولر توانائی پر منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تعلیمی اداروں میں ہفتے کے تین دن آن لائن اور تین دن فزیکل کلاسز کا نظام متعارف کرایا جائے گا، جبکہ ابتدائی طور پر مزید 15 دن مکمل آن لائن کلاسز کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
مزید برآں حکومت ٹیکس نظام میں بھی تبدیلی پر غور کر رہی ہے، جس میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون ٹیکس میں کمی جبکہ پراپرٹی اور گاڑیوں کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں اضافہ شامل ہے۔ ٹول ٹیکس میں 50 روپے اضافے اور ریلوے ٹکٹوں پر 15 فیصد رعایت کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد توانائی بحران پر قابو پانا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔
ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا امکان، نئے اوقات کار اور ہائبرڈ ورکنگ پلان تیار
