امریکا کے شمال مشرقی علاقوں میں آنے والے شدید برفانی طوفان نے اتوار اور پیر کے روز بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے باعث واشنگٹن سے نیویارک اور اس سے آگے تک پھیلے گنجان آباد علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوگئے۔
حکام کے مطابق طوفان کے نتیجے میں 4 لاکھ 47 ہزار سے زائد گھروں اور کاروباری مراکز کی بجلی معطل ہوگئی۔ شدید برفباری، 70 میل فی گھنٹہ سے زائد رفتار کی ہوائیں اور حدِ نگاہ تقریباً صفر ہونے کے باعث سفری حالات انتہائی خطرناک قرار دیے گئے۔
ریاست میساچوسٹس سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جہاں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ایورسورس انرجی کے 33 لاکھ صارفین میں سے 2 لاکھ 34 ہزار 848 افراد بجلی سے محروم رہے۔ اسی طرح نیشنل گرڈ کے 39 ہزار سے زائد صارفین بھی متاثر ہوئے، جبکہ کمپنی امریکا بھر میں تقریباً 31 لاکھ صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہے۔
نیشنل گرڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ شدید برفباری، تیز ہوائیں اور انتہائی کم حدِ نگاہ کے باعث بحالی کا کام محدود ہو گیا ہے اور موسم بہتر ہونے تک عملہ مکمل طور پر کام نہیں کر سکتا۔
میساچوسٹس میں مجموعی بجلی بندش 2 لاکھ 72 ہزار 224 تک پہنچ گئی۔
طوفان کے باعث مشرقی ساحلی پٹی پر سفر شدید متاثر ہوا۔ ایئر لائنز نے ہزاروں پروازیں منسوخ کر دیں جبکہ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی۔
ریاستوں میں بجلی کی بندش کی صورتحال:
میساچوسٹس: 272,224
نیو جرسی: 57,475
ڈیلاویئر: 40,070
رہوڈ آئی لینڈ: 29,353
کیلیفورنیا: 13,902
میری لینڈ: 6,863
ٹیکساس: 4,937
ورجینیا: 4,787
مجموعی طور پر متاثرہ صارفین کی تعداد 447,435 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ خراب موسم برقرار رہنے کی صورت میں بحالی کا عمل مزید سست ہو سکتا ہے۔
امریکا کے شمال مشرقی علاقوں میں شدید برفانی طوفان، لاکھوں افراد بجلی سے محروم
