کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں اس ہفتے ایک تاریخی مقدمہ شروع ہو رہا ہے، جو یہ واضح کر سکتا ہے کہ آیا بڑی سوشل میڈیا کمپنیاں بچوں کو اپنے پلیٹ فارمز کا عادی بنانے کے لیے جان بوجھ کر تیار کر رہی تھیں۔
کیلیفورنیا کی ریاستی عدالت میں منگل کو جیوری کے انتخاب کا عمل شروع ہو گا، اور اسے ایک ’رہنما‘ مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کا نتیجہ امریکہ بھر میں اسی نوعیت کے مقدمات کے رجحان کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس مقدمے میں فریقِ مخالف الفابیٹ، بائٹ ڈانس اور میٹا ہیں، جو بالترتیب یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنیاں ہیں۔ امکان ہے کہ میٹا کے شریک بانی اور سی ای او مارک زکربرگ کو بھی بطور گواہ طلب کیا جائے گا۔
مقدمے میں مدعیوں کے وکلا نے الزام لگایا ہے کہ یہ کمپنیاں نوجوان صارفین کو ایسے مواد سے متاثر اور عادی بنا رہی تھیں جس سے وہ مایوسی، کھانے پینے کے مسائل، نفسیاتی ہسپتالوں میں داخلے اور بعض معاملات میں خودکشی کی طرف بھی مائل ہوئے۔
وکلا نے بتایا کہ وہی قانونی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے جو 1990 اور 2000 کی دہائیوں میں تمباکو کی صنعت کے خلاف استعمال ہوئی تھی، جب یہ دلیل دی گئی تھی کہ کمپنیوں نے نقصان دہ مصنوعات فروخت کیں۔
امریکہ میں تاریخی مقدمہ: کیا سوشل میڈیا نے بچوں کو عادی بنایا؟
