: پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سفارتکاری میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جسے ماہرین “سوشل میڈیا ڈپلومیسی” کی ایک منفرد مثال قرار دے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان سے قبل وزیر اعظم شہبازشریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپیل کی کہ “سفارتکاری کو موقع دیا جائے” اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی اس اپیل کے محض ڈیڑھ گھنٹے بعد امریکی صدر نے حملے مؤخر کرنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی، جسے پاکستان کی بروقت اور مؤثر سفارتی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ “انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جو لبنان سمیت ہر جگہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نہ صرف جنگ بندی میں ثالث بنا بلکہ اب وہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کرے گا۔ جمعہ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد امریکی اور ایرانی حکام کی پہلی براہ راست ملاقات ہوگی۔مزید برآں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ممکنہ طور پر ہنگری کے دورے کے بعد اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی یہ سفارتی کامیابی نہ صرف خطے میں امن کے قیام کی جانب اہم قدم ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور مؤثر کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
