جنوبی وزیرستان کے علاقے تیارزہ میں سکیورٹی فورسز نے ایک اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے افغان خودکش بمبار کو ہلاک کر دیا۔
ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ایک خودکش بمبار علاقے میں موجود ہے اور کسی بڑی دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والی انٹیلی جنس کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لیا۔ آپریشن کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں خودکش بمبار موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ ہلاک ہونے والے خودکش بمبار کی شناخت سمیع اللہ عرف ثاقب بدرالدین کے نام سے ہوئی ہے، جو کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشت گرد افغانستان کے صوبہ لوگر کا رہائشی تھا اور غیر قانونی طور پر سرحد پار کرکے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بڑے حملے کی تیاری میں مصروف تھا۔ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے ایک بڑے سانحے کو ناکام بنا دیا گیا۔علاقے میں کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا تاکہ کسی اور دہشت گرد کی موجودگی یا ممکنہ سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔ سکیورٹی اداروں نے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے جبکہ سرحدی علاقوں میں نگرانی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک میں امن و امان کو یقینی بنانا اور دہشت گرد عناصر کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
